کچھ ادارے صرف عمارتوں، کلاس رومز اور ڈگریوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان سے وابستہ یادیں وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی روشن گوشے میں محفوظ رہتی ہیں۔ میرے لیے بحریہ یونیورسٹی بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جس سے میری بے شمار کھٹی میٹھی یادیں وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جامعہ کا نام آتے ہی ذہن میں صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ایک پورا سفر، ایک عہد اور ایک خوبصورت داستان تازہ ہو جاتی ہے۔
بحریہ یونیورسٹی کا قیام سن 2000ء میں پاکستان نیوی کے زیر انتظام عمل میں آیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے چارٹر ملنے کے بعد اس جامعہ نے مختصر عرصے میں پاکستان کی ممتاز جامعات میں اپنا مقام بنا لیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر E-8 میں واقع اس کا مرکزی کیمپس آج علم، تحقیق اور کردار سازی کا ایک اہم مرکز ہے، جبکہ ایچ الیون ۔نیول اینکریچ، کراچی اور لاہور کے کیمپس بھی ہزاروں طلبہ و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
جب میں اس جامعہ کی ترقی پر نظر ڈالتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک بیج سے تناور درخت بننے کی داستان ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ ادارہ اپنے محدود وسائل اور ایک عمارت کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کر رہا تھا، مگر آج یہ ایک وسیع، متحرک اور ہمہ جہت تعلیمی دنیا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ قائد بلاک، سر سید بلاک، اقبال بلاک، فاطمہ گرلز ہاسٹل، بزنس اسکول، بحریہ انوویشن سینٹر، سِک بے، اسٹوڈنٹس اسپورٹس سینٹر اور جہانگیر خان جمنازیم اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ ادارہ مسلسل ترقی اور بہتری کی راہ پر گامزن رہا ہے۔
اس جامعہ کی نمایاں خصوصیت صرف اس کی جدید عمارتیں یا تعلیمی پروگرام نہیں بلکہ وہ نصابی اور ہم نصابی ماحول ہے جو طلبہ کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنسز، مینجمنٹ سائنسز، قانون، سماجی علوم اور دیگر شعبہ جات میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ یہاں سے صرف ڈگری لے کر نہیں نکلتے بلکہ عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
بحریہ یونیورسٹی کی ایک اور اہم خصوصیت اس کا بین الاقوامی معیار اور متنوع تعلیمی ماحول ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی زیرِ تعلیم ہیں، جو اس جامعہ کے عالمی معیار اور وسیع تعلیمی افق کی عکاسی کرتے ہیں۔ طلبہ کی علمی و پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مختلف اسکالرشپس، لیپ ٹاپ اسکیم، تحقیقی سرگرمیاں، تعلیمی مقابلے اور اسٹوڈنٹس ایکسچینج پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ مواقع نوجوانوں کو عالمی سطح پر سیکھنے، سوچنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
بحریہ یونیورسٹی کا ایک نمایاں طرۂ امتیاز مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے افکار کے فروغ کے لیے اس کی مسلسل کاوشیں ہیں۔ جامعہ میں ہر سال قومی اور بین الاقوامی سطح کی اقبال کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں ملک و بیرونِ ملک سے ممتاز محققین، دانشور اور ماہرینِ اقبالیات شرکت کرتے ہیں۔ یہ علمی روایت نہ صرف اقبال کے پیغام کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہے بلکہ تحقیق، مکالمے اور فکری بیداری کو بھی فروغ دیتی ہے۔اور اس سلسلے میں،اقبال چئیر کے نام سے ایک پورا ڈیپارٹمنٹ کام کر رہا ہے
میری اس جامعہ سے وابستگی صرف ایک مشاہدے تک محدود نہیں۔ میرے اپنے گھر کی ایک کامیاب داستان بھی اس ادارے سے جڑی ہوئی ہے۔ میرا ایک بیٹا اسی جامعہ سے تعلیم حاصل کرکے ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہوا اور آج ماشاءاللہ National University of Sciences and Technology (NUST) میں اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ اس کامیابی میں بحریہ یونیورسٹی کی تعلیم، تربیت اور رہنمائی کا نمایاں کردار شامل ہے۔ میرا دوسرا بیٹا بھی اسی ادارے میں زیرِ تعلیم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ جامعہ اس کے خوابوں کو بھی حقیقت کا روپ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔
آج جب میں بحریہ یونیورسٹی کے پھیلتے ہوئے تعلیمی افق کو دیکھتی ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک ننھا سا پودا وقت کے ساتھ ایک گھنے اور سرسبز باغ میں تبدیل ہو گیا ہو۔ اس باغ کی شاخوں پر علم، تحقیق، کردار، قیادت اور کامیابی کے بے شمار پھول کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے مختلف کیمپس دن رات ایک بہتر تعلیمی معاشرہ تشکیل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ جامعہ محض ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک ایسا روشن تعلیمی جہان ہے جہاں صلاحیتوں کو سمت ملتی ہے، خوابوں کو پرواز ملتی ہے اور امکانات کامیابیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم ادارے کو مزید ترقی، عزت اور کامیابیاں عطا فرمائے۔ اس کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کے علم و عمل میں برکت دے۔ بحریہ یونیورسٹی ہمیشہ علم کے چراغ روشن کرتی رہے، نوجوانوں کے خوابوں کو تعبیر دیتی رہے اور وطنِ عزیز پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور فکری بالیدگی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔
آمین۔
بحریہ یونیورسٹی — جہاں خواب حقیقت بنتے
