Baaghi TV

نئے صوبے یا پرانی سیاست؟ قومی مفاد پر ایک سنجیدہ مکالمہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

پاکستان مزید سیاسی تماشوں کا متحمل نہیں، اب قومی مفاد میں سنجیدہ فیصلوں کا وقت آ چکا ہے

ہر نئی اصلاحی تجویز کو سیاسی خوف اور مفادات کی عینک سے دیکھنے کی روایت ختم ہونی چاہیے

اگر نئے صوبے عوامی سہولت اور بہتر انتظام کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو سنجیدہ غور ضروری ہے

لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل موجود ہوں تو سیاست کا رخ عوامی فلاح کی جانب ہونا چاہیے

سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر قومی مفاد اور عوامی مسائل پر یکسوئی وقت کی اہم ضرورت ہے

تجزیہ شہزاد قریشی

پاکستان میں جب بھی اصلاحات، انتظامی بہتری یا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بات ہوتی ہے تو کچھ حلقے فوراً مخالفت کے مورچوں میں جا بیٹھتے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کی تجویز بھی انہی موضوعات میں سے ایک ہے جسے جذبات، سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ اس معاملے کا تعلق کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک سیاسی شخصیت سے نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، عوامی سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی سے ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا دنیا وہیں کھڑی ہے جہاں نصف صدی پہلے کھڑی تھی؟ ذرا یورپ، شمالی امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک کے انتظامی ڈھانچے کا مطالعہ کیجیے۔ پاکستان سے کہیں چھوٹے ممالک میں بھی انتظامی اکائیاں زیادہ ہیں، اختیارات تقسیم ہیں، فیصلے عوام کے قریب ہیں اور ریاستی مشینری شہریوں کی دہلیز تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں ترقی کا سفر تیز، احتساب مؤثر اور عوامی خدمات نسبتاً بہتر نظر آتی ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض لوگ ہر نئی تجویز کو اس خوف سے دیکھتے ہیں کہ کہیں اقتدار کے ایوانوں میں طاقت کا توازن تبدیل نہ ہو جائے۔ ان کے لیے اصل مسئلہ عوامی فلاح نہیں بلکہ سیاسی بساط پر مہرے بچانا ہوتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ نئے صوبوں پر طویل مباحث کرتے ہیں، وہ شاذ و نادر ہی اس سوال پر گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ عام آدمی کو گیس کب ملے گی؟ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات کب ملے گی؟ نوجوانوں کو روزگار کب ملے گا؟ پاکستان قرضوں کے بوجھ سے کب آزاد ہوگا؟ اور ہم ترقی پذیر سے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کب شامل ہوں گے؟

قومیں محض سیاسی نعروں سے نہیں بنتیں، بلکہ عوامی خوشحالی، معاشی استحکام اور مؤثر حکمرانی سے بنتی ہیں۔ اگر آج بھی ایک عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، ناقص صحت اور کمزور تعلیمی نظام کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے تو ہماری اولین ترجیح یہی مسائل ہونے چاہئیں، نہ کہ ایسی بحثیں جن کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہو۔
اس وقت پاکستان کو داخلی استحکام، قومی یکجہتی اور امن و امان کی مضبوط فضا کی ضرورت ہے۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں بیرونی مداخلت اور تخریبی سرگرمیاں ایک حقیقت ہیں۔ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور انتظامی اصلاحات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے موضوعات ہیں۔ ان پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانی، چاہے وہ یورپ میں ہوں، امریکہ میں ہوں یا مشرقِ وسطیٰ میں، پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ملک میں ایسے فیصلے ہوں جو عوام کی زندگی آسان بنائیں، ریاستی اداروں کو مؤثر بنائیں اور ترقی کے دروازے کھولیں۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم شخصیات سے بالاتر ہو کر پالیسیوں پر گفتگو کریں۔ ہر تجویز کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے کہ اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ اگر نئے صوبے بہتر انتظام، تیز تر ترقی، مقامی نمائندگی اور عوامی سہولت کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو ان پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے، اور اگر ان میں خامیاں ہیں تو دلیل سے ان کی نشاندہی ہونی چاہیے۔
پاکستان مزید سیاسی تماشوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قوم کو محفلوں کی گرما گرمی نہیں، بلکہ فیصلوں کی سنجیدگی درکار ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے عوام کے مسائل کو اقتدار کی سیاست پر ترجیح دیتی ہیں۔ پاکستان کی بقا، استحکام اور خوشحالی کا راستہ بھی اسی اصول سے ہو کر گزرتا ہے۔

More posts