Baaghi TV

میر رضا کیس کی ابتدائی رپورٹ جاری،قتل کیے جانے کا شک مزید گہرا

کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت کے معاملے میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد ابتدائی میڈیکل نتائج سامنے آگئے ہیں،ابتدائی رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں جب کہ گولی لگنے کی سمت بھی عقب سے بتائی گئی ہے۔

ہفتے کے روز 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر کی موجودگی میں پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی قبرستان میں میر رضا کی قبر کشائی کی، اس دوران میڈیکل بورڈ نے میر رضا کے جسدِ خاکی کا دوبارہ معائنہ کیا اور کیمیکل تجزیے کے لیے ضروری شواہد اور مختلف نمونے حاصل کیے،اس 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں، جنہوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے ابتدائی نتائج میں میر رضا کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات اور گولی کے پیچھے سے لگنے کی نشاندہی ہوئی ہے رپورٹ میں پولیس سرجن کی جانب سے اٹھائے 14 اعتراضات کے تفصیلی جواب بھی سامنے آگئے ہیں۔

ہفتے کے روز 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر کی موجودگی میں پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی قبرستان میں میر رضا کی قبر کشائی کی تھی میڈیکل ٹیم صبح 10 بج کر 50 منٹ پر قبرستان پہنچی جب کہ 11 بج کر 50 منٹ پر قبر سے لاش نکالی گئی اس دوران بورڈ نے میر رضا کے جسدِ خاکی کا دوبارہ معائنہ کیا اور کیمیکل تجزیے کے لیے ضروری شواہد اور مختلف نمونے حاصل کیے تھے۔

بورڈ کی جانچ کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا علی کی موت اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے درمیان تقریباً 12 روز کا فاصلہ ہےہفتے کے روز معائنے کے وقت لاش گلنا شروع ہو چکی تھی، تاہم دوبارہ طبی معائنے کے دوران جسم پر متعدد اہم چوٹوں اور زخموں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

میر رضا کی کھوپڑی کے دائیں حصے میں گہرا زخم موجود تھا جب کہ کھوپڑی کے مختلف حصوں میں فریکچر کی بھی نشاندہی ہوئی ہے رپورٹ میں کھوپڑی کے مختلف حصوں میں جما ہوا خون موجود ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہےاس کے علاوہ دائیں جانب کولہے کی ہڈی میں بھی 12 سینٹی میٹر کا فریکچر اور اوپری جبڑے کے چار دانت متاثر ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہےجانچ کے دوران میر رضا کی دائیں جانب کی چھٹی پسلی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جو کہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

8 رکنی بورڈ کی ابتدائی رپورٹ میں گولی لگنے کے زخم سے متعلق بھی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں،رپورٹ کے مطابق گولی کے داخلی زخم کا سائز 0.8 سینٹی میٹر تھا جب کہ زخم کے اطراف سیاہ دھبے بھی موجود تھے رپورٹ میں گولی کے خارجی زخم کا بھی ذکر موجود ہے، جس سے گولی کے جسم سے گزرنے کی نشاندہی ہوتی ہے میڈیکل معائنے کے دوران دل پر دو گول زخم پائے گئے ہیں جب کہ دل کے پچھلے حصے کے پٹھوں پر سیاہ دھبوں کے آثار کا بھی ذکر موجود ہے،قبر کشائی کے بعد جاری ابتدائی رپورٹ میں جسم پر پائی جانے والی چوٹوں کو موت سے پہلے لگنے والی چوٹیں قرار دیا گیا ہے جب کہ ان زخموں سے خون کے اخراج کے شواہد بھی موجود ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔

یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب میر رضا علی کی موت کے حوالے سے پولیس اور اہلخانہ کے مؤقف میں پہلے ہی واضح اختلاف موجود تھا،اس 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں، بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد بطور پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر فرح وسیم بطور فارنزک ایکسپرٹ، سی پی ایل سی آفیسر عامر حسن خان بطور فارنزک آئیڈینٹی فکیشن ایکسپرٹ شامل ہیں، جب کہ ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا کو بھی بطور ممبر شامل کیا گیا تھا۔

میر رضا کے والد نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب جو تفتیش کی جارہی ہے اس سے مطمئن ہوں وہ رپورٹ لینے کے لیے جا رہے ہیں اور رپورٹ ملنے سے قبل کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

ڈاکٹر سمعیہ نے بدھ کے روز ایس ایس پی ایسٹ کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں انہوں نے میر رضا علی کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اعتراضات ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ 29 جولائی کو ہونے والے پوسٹ مارٹم میں متعدد اہم فارنزک تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

پولیس سرجن کے خط میں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ایکسرے نہ کرانا، گن شاٹ ریزیڈیو ٹیسٹ کے لیے ہاتھوں کے نمونے حاصل نہ کرنا، آتشی ہتھیار سے لگنے والے زخموں کا ناکافی معائنہ اور گولی کے جسم میں داخل ہونے اور گزرنے کی سمت کی تفصیلی دستاویزات کا نہ ہونا جیسے اعتراضات شامل تھے۔

پولیس سرجن نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ مقتول کا چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کے باوجود ڈی این اے کا نمونہ کیوں حاصل نہیں کیا گیا اس کے علاوہ زخموں کی دستاویز بندی اور فرانزک فوٹوگرافی کے طریقہ کار پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے تھےان سنگین خامیوں کی نشاندہی کے بعد پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے لاش کی دوبارہ جانچ کی سفارش کی تھی۔

اس کیس میں نیا موڑ اس وقت آیا جب محکمہ صحت کی جانب سے ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی میں قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو تبدیل کر کے 5 رکنی نیا بورڈ بنا دیا گیا تھا جس پر میر رضا کے اہل خانہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اس نئے بورڈ کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا، جس کے بعد قبر کشائی کا معاملہ عارضی طور پر مؤخر ہو گیا تھا۔

ہفتے کے روز قبر کشائی سے ٹھیک پہلے انتظامیہ کی جانب سے 5 رکنی میڈیکل بورڈ کے بجائے اچانک سابقہ 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو بحال کر دیا گیا۔ جس کے بعد ڈاکٹر سمعیہ سید کو ایک بار پھر اس آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کی کنوینر مقرر کر دیا گیا۔

اس بحال شدہ بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد بطور پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر فرح وسیم بطور فارنزک ایکسپرٹ، سی پی ایل سی آفیسر عامر حسن خان بطور فارنزک آئیڈینٹی فکیشن ایکسپرٹ شامل ہیں، جب کہ ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا کو بھی بطور ممبر برقرار رکھا گیا ہے۔

میڈیکل بورڈ میں راتوں رات کی جانے والی تبدیلی پر مقتول کے وکیل اور والدین نے شدید برہمی کا اظہار کیا تھا۔

اس کیس میں وکیل استغاثہ جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ ”میڈیکل بورڈ سے متعلق بار بار نوٹیفکیشن جاری کیے جا رہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ میڈیکل بورڈ میں کراچی کے ہی ماہر افسران اور ڈاکٹرز کو شامل کیا جائے، آخر راتوں رات بورڈ تبدیل کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی؟“۔

More posts