Baaghi TV

ہجرتوں کے درد سے ملی آزادی،تحریر:قرۃالعین خالد

آزادی! کیا ہے یہ آزادی؟ کسی پنجرے میں قید پرندے سے آزادی کی نعمت کے بارے میں پوچھیں؟ کسی جیل میں قید قیدی سے جانیے کہ آزادی کیا ہے؟ آزادی! رب کی وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ 14 اگست صرف کیلنڈر پر لکھی ہوئی ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ ان آنکھوں کے درد کا نام ہے جنہوں نے اپنے گھر جلتے دیکھے، ان قدموں کی تھکن کا نام ہے جو منزل کی تلاش میں میلوں چلتے رہے، ان ماؤں کی دعاؤں کا نام ہے جن ماؤں نے اپنے لخت جگر کو سینوں سے لگا کر کہا تھا بیٹا! صبر کا دامن نہ چھوڑنا بس ہم پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ یہ آزادی ہمیں آسانی سے نہیں ملی تھی۔ 14 اگست 1947ء میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو لاکھوں انسانوں نے اپنے آبائی گھر، اپنی دکانیں، اپنی زمینیں، اپنی گلیاں، اپنے محلے اور سب سے بڑھ کر اپنے پیارے رشتے ناتے چھوڑ دیے۔ کوئی والدین سے بچھڑا، کوئی بہن بھائیوں سے بچھڑا، بیویوں نے اپنے سہاگوں کی قربانیاں دیں۔ ماؤں نے اپنے ہاتھوں اپنے بچے خود سے جدا کیے۔ کسی نے اپنے بوڑھے ماں باپ کو آخری بار دیکھا اور پھر کبھی ان کا چہرہ نہ دیکھ سکے۔ کوئی ہمیشہ کے لیے اپنی محبتوں کو پیچھے چھوڑ آیا۔ اپنی اگلی نسلوں کی خوشیوں کے لیے کتنے ہی محبت کرنے والوں نے اپنے محبوب سے بچھڑنے کا غم ساری زندگی اپنے دامن میں بھر لیے۔ ہجرت کے دکھ ناقابلِ بیاں ہیں۔ ہجرت صرف گھر بدلنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ ہجرت تو وہ ہے جو ان افراد نے کی جنہوں نے اپنی پوری زندگی ایک بستر کی گٹھڑی میں باندھ دی اور ایک نئی دنیا کے مسافر بن گئے۔ ہجرت تو اپنے گھر بار، اپنے رشتوں، اپنی محبتوں کو قربان کرنا انہیں پیچھے چھوڑ دینے کا نام ہوتا ہے۔ ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کریں اور خود کو برصغیر پاک و ہند کی سر زمین پر لے جائیں۔ جہاں ہر طرف انسان مولی گاجروں کی طرح کٹ رہے تھے۔ خون کی ندیاں پانی کی طرح بہہ رہی تھیں۔ جہاں مارنے والے انسانیت کے درجے سے گر چکے تھے۔ ان کے دل رحم سے خالی تھے۔ لوگ بچتے بچاتے جب ٹرینوں میں سوار ہوئے تو ان کے پاس شاید چند کپڑے، کچھ زیورات، تھوڑا سا سامان اور بہت سارے خواب تھے۔ مگر کئی ٹرینیں منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ماتم کدہ بن گئیں۔ راستے میں قتل و غارت ہوئی، خاندان اجڑ گئے، بچے یتیم ہو گئے اور عورتیں اپنے سہاگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مٹتے دیکھتی رہیں۔ کئی عورتیں آغاز سفر میں سہاگن تھیں لیکن منزل پر پہنچتے پہنچتے وہ بیوگی کی چادر تان چکی تھیں۔ ان دلوں کی کیا کیفیت ہو گی؟ جب انہوں نے آزاد وطن میں سانس لیا ہو گا لیکن وہ بھیڑ میں بھی تنہا ہوں گے۔

آزاد وطن کی خوشی مناتے یا ہجرتوں کا غم مناتے؟
پاکستان کی مٹی کو چومتے یا بچھڑ جانے والوں کا سوگ مناتے؟

ایک لمحے کو سوچیں خود کو اس میدان میں لے کر جائیں جہاں ہر طرف لاشیں بکھری تھیں۔ کچھ لوگ چھپتے چھپاتے، جان بچاتے، اپنے قافلوں کے ساتھ سرحد کے اس پاڑ بڑھتے جا رہے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ اگلی صبح وہ زندہ ہوں گے یا نہیں۔ انہیں صرف یہ یقین تھا کہ ایک پاکستان ہے، جہاں پہنچ کر شاید زندگی دوبارہ سے شروع کی جا سکے گی۔
اور پھر وہ دن آ گیا۔
چودہ اگست 1947ء۔

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تھا، 27 رمضان کا بابرکت دن تھا۔ ایک ایسی سر زمین وجود میں آئی جس کے لیے اقبال نے خواب دیکھا اور قائد نے لائحہ عمل بتایا اور ایک پوری قوم نے بے شمار قربانیاں دی تھیں۔ جب ہجرت کر کے آنے والوں نے پہلی بار اس سر زمین پر قدم رکھا ہو گا تو ان کے پاؤں شاید تھکے ہوئے ہوں گے، جسم زخموں سے چور ہو گا، آنکھیں اپنوں کی جدائی سے نم ہوں گی، مگر دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ باران رحمت برس رہی تھی۔ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں بھی اس منظر کو چھو رہی تھیں۔ کوئی ٹرین سے اترا، کسی نے اپنے قدموں کے نیچے پاکستان کی مٹی محسوس کی، کسی نے مٹی اٹھا کر آنکھوں سے لگائی، کسی نے اسے چوما اور شاید دل ہی دل میں کہا ہو گا۔ "یا اللہ! ہم پہنچ گئے، یہ ہے ہمارا پاکستان!” وہ اپنے وطن سے محبت وہ غلامی سے ملکیت تک کا سفر، کیسا احساس ہو گا نا اس وقت آزادی کا۔ پاک دھرتی کی مٹی ان کے لیے صرف مٹی نہیں تھی۔ یہ وہ مٹی تھی جس کے لیے انہوں نے اپنے گھر چھوڑے تھے۔
یہ وہ مٹی تھی جس کے لیے انہوں نے اپنے پیارے گنوائے تھے۔
یہ وہ مٹی تھی جس کے لیے کئی محبتیں سرحد کے اُس پار رہ گئی تھیں۔

کسی کی محبوبہ ہندوستان میں رہ گئی، کوئی اپنی ماں سے بچھڑ گیا، کوئی اپنے بھائی کو آخری بار گلے لگا کر پاکستان آ گیا۔ کچھ لوگ یہاں پہنچ گئے، مگر ان کا ماضی، ان کی یادیں اور ان کے بہت سے اپنے وہیں رہ گئے۔ یہ ہجرت تھی اور ہجرت کا درد صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر منزل کی طرف قدم بڑھایا ہو۔ مگر آج ذرا خود سے ایک سوال کریں۔ ہم نے اپنے آباء کی دی گئی قربانیوں کے ساتھ کیا کیا ہے؟ جن لوگوں نے پاکستان کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے، کیا ہم نے اس پاکستان کی قدر کی؟ جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں، کیا ہم نے ان کے خوابوں جیسا پاکستان بنانے کی کوشش کی؟ جنہوں نے سچائی، ایمان اور بہتر مستقبل کے لیے ہجرت کی، کیا ہم آج جھوٹ، دھوکے، کرپشن، ناانصافی اور خود غرضی کو اپنا معمول نہیں بنا بیٹھے؟ آج ہمیں آزادی کی قدر شاید اس لیے محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ہم نے آزادی حاصل کرنے کا درد دیکھا ہی نہیں۔
ہم نے وہ خون میں لت پت ٹرینیں نہیں دیکھیں۔
ہم نے وہ اجڑے ہوئے گھر نہیں دیکھے۔
ہم نے ماؤں کے آنسو نہیں دیکھے۔
ہم نے باپ سے بچھڑتے ہوئے بلکتے بچے نہیں دیکھے۔
ہم نے وہ بچے نہیں دیکھے جو راستے میں اپنے خاندانوں سے جدا ہو گئے۔

ہم نے صرف ایک آزاد وطن دیکھا ہے، مگر اس آزادی کی قیمت ادا کرنے والوں کو نہیں دیکھا۔ اس لیے اس چودہ اگست پر صرف جھنڈیاں لگانا، ملی نغمے سننا اور سبز لباس پہن لینا کافی نہیں۔ اگر واقعی ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ
ہم کرپشن نہیں کریں گے۔
ہم جھوٹ نہیں بولیں گے۔
ہم کسی کا حق نہیں ماریں گے۔
ہم دھوکہ نہیں دیں گے۔
ہم اپنے کام میں ایمانداری اختیار کریں گے۔
ہم قانون کا احترام کریں گے۔
ہم اپنے وطن کو گالی نہیں، اپنا کردار دیں گے، کیونکہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں۔ پاکستان ان شہیدوں کی امانت ہے جنہوں نے اپنی جانیں دیں۔
پاکستان ان ماؤں کی امانت ہے جنہوں نے اپنے بیٹے قربان کیے۔ پاکستان ان بیٹیوں کی امانت ہے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے۔ پاکستان ان ہجرت کرنے والوں کی امانت ہے جنہوں نے اپنا ماضی پیچھے چھوڑ کر ایک نئے مستقبل کا خواب دیکھا۔
آئیے اس چودہ اگست پر چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ 1947ء کا ایک مہاجر، تھکا ہارا، زخمی، آنکھوں میں آنسو لیے پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھ رہا ہے۔ وہ جھکتا ہے، مٹی اٹھاتا ہے، اسے چومتا ہے اور کہتا ہے، "یہ وطن ہمیں بہت قربانیوں کے بعد ملا ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔”
آج وہی سوال ہمارے سامنے ہے۔
کیا ہم نے وہ امانت سنبھال لی؟ اگر جواب ’’ہاں‘‘ نہیں ہے تو ابھی وقت ہے۔ آئیے اس آزادی کو صرف منائیں نہیں، اس کی حفاظت بھی کریں۔
کیونکہ یہ پاکستان ہمیں تحفے میں نہیں ملا تھا،
یہ ہجرتوں کے درد، شہیدوں کے خون، ماؤں کی دعاؤں اور لاکھوں انسانوں کے ادھورے خوابوں سے وجود میں آیا تھا۔

پاکستان زندہ باد۔

More posts