امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے نیٹو کے یورپی اتحادی ممالک کو ایک سوال نامہ بھیجا ہے، جس کا مقصد امریکی پالیسیوں کے لیے ان کی حمایت اور دفاعی تعاون کا جائزہ لینا بتایا گیا ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق سوال نامے میں اتحادی ممالک سے امریکا کے ساتھ فوجی، دفاعی اور معاشی تعاون سے متعلق مختلف سوالات کیے گئے ہیں،امریکی انتظامیہ نے نیٹو ممالک سے پوچھا ہے کہ آیا وہ امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے میں کسی قسم کی پابندی عائد کرتے ہیں یا نہیں، اس کے علاوہ یہ بھی دریافت کیا گیا ہے کہ نیٹو اتحادی ممالک امریکی دفاعی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں سے کتنا دفاعی سامان خریدتے ہیں اور ان پر کتنے اخراجات کرتے ہیں۔
سوال نامے میں یورپ میں مقامی دفاعی صنعت کو ترجیح دینے والی ’’میڈ ان یورپ‘‘ پالیسیوں کے بارے میں بھی نیٹو ممالک کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی ہے اس سے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یورپی ممالک امریکی دفاعی صنعت پر کس حد تک انحصار کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے نیٹو اتحادیوں کے دفاعی بجٹ سے متعلق بھی معلومات طلب کی ہیں بعض اتحادی ممالک سے امریکی کمپنیوں سے دفاعی سازوسامان کی خریداری کے ثبوت اور رسیدیں فراہم کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔
امریکی اقدام پر بعض یورپی اتحادیوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اس نوعیت کے سوالات محض دفاعی تعاون کا جائزہ لینے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے امریکی پالیسیوں کے ساتھ نظریاتی ہم آہنگی اور وفاداری کا بھی اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کا ششماہی جائزہ لے رہا ہے یہ جائزہ دسمبر میں مکمل ہونے کی توقع ہے اور اس کے نتیجے میں یورپ میں امریکی فوجی تعیناتی اور نیٹو کے ساتھ دفاعی تعاون کے مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔
امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے دفاعی اخراجات، فوجی ذمہ داریوں اور امریکی فوجی موجودگی کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر نیٹو کے یورپی ارکان پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ اپنے دفاع پر زیادہ رقم خرچ کریں اور اتحاد کی مجموعی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ حصہ ڈالیں۔
دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹے نے امریکا کی جانب سے یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کے جائزے کو مثبت قدم قرار دیا ہے ان کے مطابق اس طرح کے جائزوں سے نیٹو کے رکن ممالک ایک دوسرے کے مزید قریب آرہے ہیں،ایسے جائزے باقاعدگی سے ہونے چاہئیں تاکہ اتحاد کے رکن ممالک اپنی دفاعی ضروریات اور ذمہ داریوں کا بہتر اندازہ لگا سکیں۔
