ادب کی دنیا میں کچھ نام محض نام نہیں ہوتے، وہ ایک کیفیت، ایک خوشبو، ایک احساس اور ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ شمسہ رانی بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ان کے لفظ کاغذ پر اترتے نہیں، دل کی دہلیز پر دستک دیتے ہیں؛ ان کی شاعری پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے؛ اور ان کا اندازِ سخن ایسا ہے کہ سادہ سے لفظ بھی ایک نئی معنویت کے ساتھ دل میں اتر جاتے ہیں۔
ٹیکسلا کی تاریخی و تہذیبی مٹی سے وابستہ شمسہ رانی نے اپنے علمی و ادبی سفر کو مطالعے، مشاہدے اور ریاضت سے جِلا بخشی۔ ابتدائی تعلیم یُسریٰ اسکول خان پور، میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نمبر 4 اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، انگلش لٹریچر اور ایم اے، تاریخ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ شاعرہ، نظم نگار، نثر نگار، ناول نویس اور قومی اخبارات کی کالم نگار کی حیثیت سے اپنی الگ ادبی شناخت رکھتی ہیں۔
ذاتی طور پر اگر میں شمسہ رانی کی شاعری کی بات کروں تو یہ میرے لیے محض ایک تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک ادبی تجربے کا اعتراف ہے۔ میں نے بہت سے شعراء کو پڑھا ہے، مختلف اسالیبِ سخن سے گزرا ہوں، مگر شمسہ رانی کے کلام میں جو سادگی کے پردے میں گہرائی، لفظوں میں لطافت، احساس میں شدت اور اظہار میں انفرادیت نظر آتی ہے، وہ مجھے ایک الگ اور منفرد رنگ محسوس ہوئی۔
ان کے ہاں محبت محض محبت نہیں رہتی، ایک مکمل کیفیت بن جاتی ہے؛ ہجر صرف جدائی نہیں رہتا، ایک خاموش موسیقی بن جاتا ہے؛ یاد محض یاد نہیں رہتی، دل میں ٹھہرا ہوا سایہ بن جاتی ہے۔
اسی کیفیت کی ایک خوبصورت جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے، جنہیں میں نے خود ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے "نوکِ نایاب” کے لیے منتخب کیا:
«مجھے تم سے محبت ہے
بے پناہ محبت
تم میری زندگی کی وہ کمی ہو
جو مجھے مکمل نہیں ہونے دیتی
وہ خاموش درد ہو
جو ہنسنے نہیں دیتا
وہ ادھورا خواب ہو
جو ہر رات آنکھوں میں جاگتا ہے
کاش! میں اس لمحے کو روک سکتی۔»
یہ چند مصرعے بظاہر محبت کا اظہار ہیں، مگر ذرا ٹھہر کر پڑھیں تو ان میں محبت، محرومی، انتظار، یاد اور ادھورے پن کی پوری کائنات آباد دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعرہ کا لفظ قاری کا ذاتی احساس بن جاتا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ان کی شاعری پسند آئی—بہت پسند آئی۔ کیونکہ یہاں لفظوں کی نمائش نہیں، احساس کی سچائی ہے؛ مشکل تراکیب کا بوجھ نہیں، سادہ لفظوں کی تاثیر ہے؛ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا لہجہ ہے جو بنا کسی شور کے دل تک پہنچ جاتا ہے۔
ان شاء اللہ عنقریب ان کی شعری کتاب "سائے جو ٹھہر گئے” تقریبِ رونمائی کے بعد منظرِ عام پر آئے گی۔ یہ عنوان ہی اپنے اندر ایک مکمل داستان سمیٹے ہوئے ہے—کچھ یادیں، کچھ چہرے، کچھ لمحے اور کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود دل سے نہیں گزرتیں؛ وہ سائے بن کر ٹھہر جاتی ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ "سائے جو ٹھہر گئے” شاعری سے محبت رکھنے والے اہلِ ذوق کے لیے محض ایک کتاب نہیں بلکہ احساس کی ایک خوبصورت دستاویز، لفظوں کا ایک خوشبودار سفر اور دل کے قریب رہ جانے والا ادبی تحفہ ثابت ہوگی۔
شمسہ رانی جب اپنا کلام اپنی مترنم اور دل نشیں آواز میں پیش کرتی ہیں تو شعر کو ایک اور زندگی مل جاتی ہے۔ لفظ آواز میں ڈھلتے ہیں، آواز احساس میں، اور احساس سامع کے دل میں اتر جاتا ہے۔
شمسہ رانی لفظوں کی ملکہ ضرور ہیں، مگر ان کی اصل پہچان احساس کی ترجمانی ہے۔
ان کا قلم محبت کو زبان دیتا ہے، خاموشی کو آواز دیتا ہے، عورت کے احساس کو وقار دیتا ہے اور زندگی کے معمولی لمحوں میں چھپی غیر معمولی کیفیتوں کو دریافت کرتا ہے۔
دعا ہے کہ ان کے قلم کی یہ روشنی ہمیشہ قائم رہے، "سائے جو ٹھہر گئے” اہلِ ادب کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے، اور شمسہ رانی کا نام ٹیکسلا کے ادبی افق سے بلند ہو کر اردو ادب کے وسیع آسمان پر اپنی الگ روشنی کے ساتھ ہمیشہ جگمگاتا رہے۔
کچھ لفظ صرف پڑھے جاتے ہیں،
کچھ لفظ یاد رہ جاتے ہیں،
اور کچھ لفظ دل میں اتر کر
عمر بھر کے لیے ایک احساس بن جاتے ہیں—
شمسہ رانی کی شاعری بھی ایسے ہی لفظوں کا نام ہے۔
