1947ء میں پاکستان ایک خواب، ایک امید اور ایک عزم کے ساتھ وجود میں آیا تھا۔ بانیانِ پاکستان نے ایک ایسے ملک کا تصور پیش کیا تھا جہاں عام آدمی کو عزت، انصاف، روزگار اور بنیادی سہولیات میسر ہوں۔ آج 2026ء ہے۔ آزادی کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا عام پاکستانی کی زندگی واقعی بدلی ہے؟
پاکستان کے قیام سے آج تک قوم کو بارہا بتایا گیا کہ ملک ایک ’’نازک موڑ‘‘ سے گزر رہا ہے۔ کبھی معاشی بحران، کبھی سیاسی بحران، کبھی دہشت گردی، کبھی سیلاب، کبھی مہنگائی اور کبھی عالمی حالات کو مشکلات کی وجہ قرار دیا گیا۔ لیکن افسوس کہ یہ نازک موڑ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں بحران جب بھی آتا ہے، اس کا سب سے بڑا بوجھ غریب آدمی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بجلی کے بل بڑھتے ہیں تو غریب کا چولہا ٹھنڈا ہوتا ہے، مہنگائی بڑھتی ہے تو بچوں کے دودھ اور تعلیم میں کٹوتی ہوتی ہے، بے روزگاری بڑھتی ہے تو نوجوان مایوسی کا شکار ہوتے ہیں، اور معاشی دباؤ حد سے بڑھ جائے تو بعض لوگ خودکشی جیسے انتہائی اقدام تک پہنچ جاتے ہیں۔
دوسری طرف اقتدار کے ایوانوں کی زندگی دیکھیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان صرف غریبوں کے لیے مشکل ملک ہے؟
عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی ایک مسئلہ ہے، مگر اشرافیہ کے لیے مراعات، پروٹوکول اور سہولیات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حکمران بدلتے ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر عام آدمی کے مسائل کی فہرست تقریباً وہی رہتی ہے۔ہم نے 1947ء سے 2026ء تک کئی سیاسی ادوار دیکھے۔ جمہوری حکومتیں آئیں، فوجی حکومتیں آئیں، نئی جماعتیں بنیں، پرانی جماعتیں واپس آئیں، منشور تبدیل ہوئے، وعدے کیے گئے، مگر سوال وہی ہے:
غریب کب بدلے گا؟
نوجوان کب بااختیار ہوگا؟
عام شہری کو کب حقیقی انصاف ملے گا؟
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ تمام مسائل کا ذمہ دار صرف حکمرانوں کو قرار دینا کافی نہیں۔ ریاستی اداروں، سیاسی جماعتوں، اشرافیہ، کاروباری طبقے، بیوروکریسی اور معاشرے کے بااثر طبقات سب کو اپنے اپنے حصے کا احتساب کرنا ہوگا۔پاکستان کے وسائل محدود نہیں، لیکن وسائل کی منصفانہ تقسیم ایک بڑا سوال ضرور ہے۔ اگر ایک طرف ایک خاندان مہینے کا راشن پورا کرنے کے لیے پریشان ہو اور دوسری طرف کسی طبقے کے لیے لاکھوں روپے کی مراعات معمول کی بات بن جائیں تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا، یہ سماجی انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔
سب سے خطرناک صورتحال وہ ہوتی ہے جب نوجوان اپنے ملک میں اپنا مستقبل دیکھنا چھوڑ دے۔ جب تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کے لیے در بدر ہو، جب والدین بچوں کی فیس ادا نہ کر سکیں، جب مریض علاج کے اخراجات سے پریشان ہو اور جب ایک مزدور پورا دن محنت کرنے کے باوجود اپنے گھر کا چولہا نہ جلا سکے تو ہمیں صرف اعداد و شمار نہیں دیکھنے چاہئیں، بلکہ انسان کے اندر پیدا ہونے والی مایوسی کو بھی سمجھنا چاہیے۔
پاکستان کو صرف معاشی پیکیجز، قرضوں اور سیاسی نعروں سے نہیں بچایا جا سکتا۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، تعلیم عام ہو، صحت بنیادی حق بنے، روزگار کے مواقع پیدا ہوں، ٹیکس کا نظام منصفانہ ہو اور ریاستی وسائل کا استعمال عوام کی فلاح کے لیے ہو۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی رہے گی؟
کب تک پاکستان ’’نازک موڑ‘‘ پر کھڑا رہے گا؟
اگر 1947ء سے 2026ء تک تقریباً 79 سال گزرنے کے باوجود عام شہری بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہے تو ہمیں صرف حکمرانوں سے سوال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ پورے نظام سے سوال کرنا ہوگا۔یہ ملک صرف حکمرانوں، سیاست دانوں یا اشرافیہ کا نہیں۔ یہ مزدور کا بھی ہے، کسان کا بھی، استاد کا بھی، صحافی کا بھی، طالب علم کا بھی، اقلیتوں کا بھی اور اس ہر پاکستانی کا بھی جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے۔
پاکستان کو ایک اور نازک موڑ کی نہیں، ایک نئے قومی عزم کی ضرورت ہے۔
ایسے عزم کی جس میں اقتدار مقصد نہ ہو بلکہ عوام کی خدمت مقصد ہو۔
کیونکہ اگر حکمران امیر سے امیر تر ہوتے جائیں اور عوام غربت، بے روزگاری، مہنگائی، ذہنی دباؤ اور مایوسی میں پستے رہیں تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان کب ترقی کرے گا۔
اصل سوال یہ ہوگا:
آخر اس ترقی کا فائدہ کس پاکستانی کو پہنچ رہا ہے؟
پاکستان کا نازک موڑ اب ختم ہونا چاہیے۔
اب وقت ہے کہ ریاست مضبوط ہو، ادارے جواب دہ ہوں، سیاست خدمت بنے اور عام پاکستانی کی زندگی بہتر ہو۔ورنہ تاریخ ہم سے ایک دن ضرور پوچھے گی،آزادی تو حاصل کر لی تھی، مگر عام آدمی کو حقیقی آزادی کب ملی؟
