Baaghi TV

قسمت کے کھیل ،تحریر: عائشہ گُل

"کیا نام ہے بیٹا تمہارا؟” انٹی نے شفقت سے پہلو میں بٹھا کر پوچھا۔ ارم نے بس سر جھکا لیا۔ ایک لفظ نہ آگے، نہ پیچھے۔ خاموشی ہی اس کا جواب بنی۔ جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ مہرون لباس، لمبی قمیض، ہم رنگ ٹراؤزر اور حجاب۔ چہرے پر نور کی پرچھائیاں، آنکھوں میں ہلکا کاجل، لبوں پر سادگی کی براؤن لپسٹک۔ گویا سادگی خود چل کر آئی ہو۔

پانچ برس بیت گئے تھے۔ ہر بار ایک نئی امید کے ساتھ وہ اس کمرے میں آتی۔ اور ہر بار "نہ” کا جواب لے کر لوٹ جاتی۔ پھر رب کے فیصلے پر سجدہ کر کے خود کو تسلی دے دیتی۔ مگر آج… آج سامنے والے دو ماہ سے پیچھے پڑے تھے۔ "لڑکی دیکھنی ہے۔” بابر کے گھر والے، ارم کے گھر والے۔ کام، کاروبار، حسب و نسب۔ سب موافق۔ اور سب سے بڑی بات، ارم بھی انہیں پسند آ گئی۔ بات بڑھتے بڑھتے منگنی تک پہنچ گئی۔ جمعہ کا دن طے ہوا۔ سب خوش تھے۔ سوائے ارم کے۔ اس کا دل کسی انجانے خوف سے کانپ رہا تھا۔ وہ بار بار بس یہی دعا کرتی: "یا اللہ! حق کو حق بنا کر دکھا، اور اس کی پیروی کی توفیق دے۔”

سلور میکسی، ہم رنگ حجاب، ہاتھوں میں گلاب کے گجرے اور مہندی کی لکیریں۔ وہ دوست کے گھر سے تیار ہو کر آئی تو لگتا تھا جیسے کوئی حور زمین پر اتر آئی ہو۔ عصر کی نماز پڑھی، اور شہزادیوں کی طرح استقبال ہوا۔ منہ میٹھا ہوا، ہاتھوں میں شگن کے لفافے رکھے گئے۔ اسٹیج پر بیٹھی وہ سب کو مسکرا کر دیکھتی رہی، مگر دل کے کونے میں وہ چٹان جیسا خوف اپنی جگہ قائم رہا۔

منگنی ہو گئی۔ آنا جانا شروع ہوا۔ تکلفات، لوازمات، مٹھائیاں۔ لیکن جب ارم والے بابر کے گھر جاتے تو وہاں لفظوں سے ٹپکتا ہوا غرور ملتا۔ چائے کے کپ میز پر رکھ کر کہا جاتا: "ہمارا بیٹا تو ماشاءاللہ خود مختار ہے۔ کاروبار کا بادشاہ ہے۔” ارم کے والد بس مسکرا کر سر جھکا لیتے۔ جیسے ارم اور اس کا خاندان کسی شمار میں ہی نہ ہو۔ ارم کا بھائی افان جب دکان پر جاتا تو بابر وہاں نہ ملتا۔ جواب یہی ملتا: "بہت محنتی ہے۔ سارا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔”

پھر ایک دن افان دکان پہنچا تو سارا بھرم ٹوٹ گیا۔ دو چار برتن، وہ بھی ادھار کے۔ باقی سارا خلا۔ دیواریں ننگی، شیلف خالی۔ محلے والوں نے کہا: "لڑکا اچھا ہے۔” لیکن اچھائی کے پردے کے پیچھے کیا تھا؟ ادھر بابر والوں نے ضد پکڑ لی۔ "ارم کے محلے میں جا کر اس کے کردار کے بارے میں پوچھیں گے۔ ورنہ منگنی توڑ دیں گے۔ شادی کے بعد بھی چھوڑ سکتے ہیں۔”

اور پھر اللہ نے پردہ اٹھا دیا۔ کسی جاننے والے نے سچ سامنے رکھ دیا۔ دکان کرائے کی، گھر کرائے کا، کاروبار کا نام و نشان نہیں۔ چھوٹا بھائی ذہنی مریض، جسے کمرے میں بند کر کے کہا جاتا تھا کہ "باہر ملک گیا ہوا ہے۔” حقیقت سامنے آتے ہی ارم کے گھر والوں نے منگنی توڑ دی۔ کہا: "جو آج ہماری بیٹی کی عزت بازار میں اچھال رہے ہیں، کل اس گھر کی عزت کی حفاظت کیا کریں گے؟”

ارم ٹوٹ گئی۔ لیکن اس بار آنسو لوگوں کے طعنوں کے ڈر سے تھے۔ اس نے بابر کی تصویر تک نہ دیکھی۔ بس رب کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دیا۔ رات کے دو بجے۔ نیند آنکھوں سے روٹھ چکی تھی۔ وہ سجدے میں گر گئی: "یا اللہ! میں یوسف کی طرح کنویں میں ہوں۔ مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا ہے۔ اس رات میں میری روشنی بس تو ہے۔ لوگ پتھر ماریں اس سے پہلے مجھے تھام لے۔ میں بے بس ہوں، مگر تیری ہوں۔” روتے روتے آنکھ لگ گئی۔

اور پھر صبح آئی۔ ایک نئی ارم کے ساتھ۔ ناشتے کی ٹرے ہاتھ میں تھامے وہ بولی: "امی! بس۔ اب یہ بات ختم۔ لوگ کہتے رہیں۔ وہ ہمیں کھلاتے نہیں، ہمارا راشن نہیں ڈالتے۔ یہ ایک برا خواب تھا، جو ٹوٹ گیا۔ اللہ جو کرتا ہے بہترین کرتا ہے۔ ساری عمر پچھتانے سے بہتر ہے ایک بار کا صبر کر لیا جائے۔” ماں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ "میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔ میرا رب ضرور بہتر سے بہترین کرے گا۔ ان شاء اللہ الکریم۔”

وقت مرہم رکھنا جانتا ہے۔ زخموں پر نہیں تو دل کے زاویوں پر ضرور۔ دو برس بیتے تو ارم کے آنگن میں بہار لوٹ آئی۔ وہی ارم جو کل تک راتوں کو سجدوں میں گم رہتی تھی، آج صبر و رضا کا پیکر بنی تھی۔ "ذیشان صاحب، لیجیے آپ کا امامہ شریف۔” اس کی آواز میں اب وہ کپکپاہٹ نہ تھی جو کبھی منگنی والے دن تھی۔ اب لہجے میں وقار تھا، آنکھوں میں سکون۔ ذیشان نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر امامہ درست کیا اور مسکرا کر کہا: "ماشاءاللہ! آج بھی یہ امامہ آپ کے ماتھے کا نور بن کر چمک رہا ہے، جیسے دعا قبول ہو کر سر پر سج گئی ہو۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتا کہ اس نے مجھے باکردار، باحیا اور علم کی روشنی والی بیوی عطا کی۔” ارم نے نظریں جھکا لیں۔ دل نے سجدہ کیا۔ وہ جب بھی ذیشان کو دیکھتی تو اسے اپنا وہ والا سجدہ یاد آ جاتا۔ وہ رات، دو بجے کا وہ اندھیرا، اور رب کا وعدہ: "میں بہترین فیصلہ کروں گا۔”

زندگی نے واقعی کروٹ لی تھی۔ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی جگہ اللہ نے ایسے محل تعمیر کر دیے تھے جن کی بنیاد یقین پر تھی۔ "چلیں، آج پہلی تراویح ہے۔ دیر نہ ہو جائے۔” ذیشان مسجد کی طرف چل دیا اور ارم نے جائے نماز بچھا لی۔ قرآن کی تلاوت کی گونج گھر میں پھیلی تو لگا جیسے فرشتے بھی سننے آ گئے ہوں۔ اور اگلے برس… اللہ نے ان کی دعاؤں کا صلہ بھیج دیا۔ ان کی گود میں ایک ننھی جان آئی۔ پاکیزہ محبت کی نشانی۔ گویا اللہ نے کہہ دیا ہو: "میں نے تیرے صبر کا سود سمیت لوٹا دیا۔” ارم نے بچے کو گود میں لیا تو بے اختیار لبوں سے نکلا: "سبحان ربی الاعلیٰ”۔ وہی سجدے والا جملہ۔ وہی یقین والا کلمہ۔ کیونکہ اب وہ جان چکی تھی… رب کا انتخاب ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان ٹوٹ کر بکھرنے کے بجائے، ٹوٹ کر اللہ سے جُڑ جائے۔

More posts