خوابوں کے چراغ،
جو کبھی لفظوں میں جلتے تھے،
اب اندھیروں میں گم ہیں۔
فطرت کے راز،
فلسفے کی گہرائی،
داستانوں کے جہان
سب ایک دھند میں کھو چکے ہیں۔
کتاب، جو تھی روشنی کی مشعل،
اب خاموش ہے،
ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح۔
صفحات پر پھیلا سکون کا پیام،
اب شور کی گونج میں دب چکا ہے۔
آنکھیں اسکرین کی روشنی میں گم،
فکر کے قافلے راستہ بھول گئے ہیں۔
نہ سوال باقی، نہ جواب کا شوق،
صرف ایک خالی پن،
ایک بے سمت دوڑ۔
کیا ہم لوٹیں گے اُس دریا کی جانب،
جہاں حرف بہتے تھے؟
جہاں سوچ کی خوشبو
ذہنوں کو مہکاتی تھی؟
یا یہ فاصلہ
اک نہ ختم ہونے والا فسانہ بن جائے گا؟
کتاب اب بھی پکارتی ہے
خاموشی میں، تنہائی میں،
اپنے حرفوں کے چراغوں سے
اقصیٰ جبار
