پوری دنیا کے کان ایک بار پھر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ اس دنیا میں کہیں کوئی بڑی چوری یا ڈاکا پڑا ہے۔ بلکہ عالمی تھانیدار نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب ملکوں کے نقشے اسی کے حکم سے بنیں اور بگڑیں گے۔ ملکوں کو مرضی سے چلانے کے لیے تو طاقت ور تھانیدار پہلے ہی بہت معروف تھے۔مگر تازہ اعلان کچھ زیادہ ہی بے باک ہے کہ بھیا! ہم نے وینزویلا پر فوجی حملہ کرکے اس کے صدر کو بیوی سمیت گرفتار کر رکھا ہے۔ تھانیدار کا ایسا اعلان اس دنیا میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اب کوئی یہ بھی نہ سمجھ بیٹھے کہ وینزویلا کا صدر "مادورو” کوئی نیک آدم زاد ہے یا کوئی فرشتہ صفت حکمران۔ آمریت پسند، سیاسی حریفوں سے بدترین سلوک کئی ایک تلخ حقائق ہیں۔ مگر تھانیدار صاحب! آپ کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ آپ کسی بھی ملک گھسیں اور صدر کو گرفتار کرکے ساتھ لے آئیں۔ مادورو کے بارے جان کر اگر آپ کو بھی انصاف یہی عالمی معیار لگ رہا ہے تو برخوردار اپنے صدر کو تیار رکھیں، اگلی باری آپ کی بھی ہوسکتی ہے۔ اس معیار کے مطابق تو آدھی دنیا کو اب تک واشنگٹن کے حوالات میں ہونا چاہیے تھا۔
واشنگٹن کے تھانیدار کا کہنا ہے کہ یہ مادورو منشیات فروش اور اسمگلر ہے۔ اور بات بھی ٹھیک ہے۔ یہ نا سمجھ بیٹھے گا کہ واشنگٹن کی نیت نیک ہے۔ زیادہ دور نہیں اپنے پڑوسی افغانستان کو دیکھ لیجیے، جس کےلیے یہاں سے ہی نعرہ لگا تھا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ مگر نتائج آپ کے سامنے ہیں،راکھ، لاشیں، اور وہی پرانے سوداگر۔
لیکن واشنگٹن کے عزائم صاف ہیں، وہ نیک نہیں، رسید بک ساتھ لاتا ہے۔ "اپنا کام بنتا، بھاڑ میں جائے (باقی) جنتا”۔
لیکن وینزویلا کا جرم کیا ہے آخر؟؟ جب آپ کے پاس تیل کے بڑے بڑے ذخائر ہوں۔ مگر آپ واشنگٹن کے دائرہ اثر سے باہر نکلنے کی ضد کریں تو یہ جرم ہے، اور ایسا سنگین جرم ہے کہ جس کی واشنگٹن تھانے میں ذرہ برابر بھی معافی نہیں۔
کئی برسوں سے وینزویلا نے ضد پال رکھی تھی۔ یہ وہی ضد ہے جو کسی دور میں شاویز نے پالی تھی۔2002 میں اسے فوج کے ذریعے ہٹایا گیا، مگر عوامی حمایت نے اسے 48 گھنٹوں کے دوران ہی واپس لا بیٹھایا۔
تب سے یہ سلسلہ جاری ہے، کبھی پابندیاں، کبھی رجیم چینج، کبھی اپوزیشن کو ہیرو بنا کر پیش کرنا۔ مگر مادورو نے بھی سوشلسٹ نعرے، امریکا مخالف بیانات اور اس سے بھی بڑا جرم کیوبا اور ایران سے دوستیاں بڑھانے کی کوششیں جاری رکھی۔وہ بھی پرانے دوستوں کے نقش قدم پر چل رہا تھا ،مگر وہ آمرانہ اقتدار کے لطف میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ۔۔۔
گزشتہ انتخابات میں مادورو کی شکست کے ٹھوس شواہد موجود ہیں مگر وہ قابض رہا۔ لیکن اب عالمی تھانیدار کا فرمان آیا ہے کہ "منصفانہ انتقالِ اقتدار تک امریکہ وینزویلا کو چلائے گا”۔ وہ بھی زبردستی قابض تھا اور آپ بھی، تو دونوں میں فرق کیا رہا؟ مگر آپ نے اگر ایسا ہی کرنا ہے تو یہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی قوانین اور آزادی و خودمختاری کی باتیں صرف فرضی اور کتابی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے تک تو آپ امن کے داعی بنے پھرتے تھے۔ امن کا نوبل انعام لینا چاہتے تھے۔ ہر جگہ جا جا کر جنگ بندی کا کریڈٹ لے رہے تھے۔ اب خود کیوں جنگ پر اتر آئے؟۔ ان جنگ بندی کی کوششوں کو پھر صرف ڈھونگ ہی سمجھا جائے۔
