Baaghi TV

اب نہیں تو کب؟ تحریر:رقیہ غزل

دو روز پہلے آسمان روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ شہر آتش بازی کی بارش میں نہائے ہوئے تھے، پٹاخوں کی گونج، مسکراتے چہرے اور مبارک بادوں کے شور میں ایک اور سال رخصت ہوا اور ہم نئے سال میں داخل ہو گئے۔ ہر طرف یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ جیسے قوم واقعی خوشحالی کے سنگِ میل پر کھڑی ہو، تمام دکھ پیچھے رہ گئے ہوں اور آگے صرف امید ہی امید ہو۔ دعوے بھی پورے اعتماد سے کیے جا رہے تھے کہ تاریخی آتش بازی میں ہم نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر جب بارہ بجنے کا شور تھما، فضا ساکت ہوئی اور یکم جنوری کا سورج طلوع ہوا تو دل نے ایک ایسا سوال کیا جس کا جواب کسی تقریر، کسی دعوے اور کسی آتش بازی میں موجود نہیں تھا: کیا واقعی ہم نئے سال میں داخل ہوئے ہیں یا صرف پرانی محرومیوں پر نیا کیلنڈر ٹانگ دیا گیا ہے؟

یہ سوال کسی ماضی کی کہانی نہیں بلکہ اسی لمحے کی تصویر ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں سے آج بھی یہی آواز آ رہی ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر سب کچھ واقعی درست سمت میں ہے تو پھر عام آدمی کی آنکھ میں سکون کیوں نہیں؟ اگر خوشحالی دستک دے چکی ہے تو گھروں کے چولھے اب بھی ٹھنڈے کیوں ہیں؟ اور اگر ترقی ہو رہی ہے تو اس کی آواز صرف پٹاخوں اور تشہیری نعروں میں ہی کیوں سنائی دیتی ہے؟

پورا سال عوام کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے، حالات نازک ہیں، قربانی ناگزیر ہے اور کمر کسنا وقت کی ضرورت ہے مگر جیسے ہی نیا سال شروع ہوتا ہے، قربانی کا بوجھ وہیں کا وہیں رہتا ہے اور مراعات کا پلڑا اچانک بھاری ہو جاتا ہے۔ کفایت شعاری عوام کے لیے اور فیاضی اختیار کے ایوانوں میں،اسی ترتیب کو اب نظم و ضبط اور معاشی حکمتِ عملی کا نام دیا جا رہا ہے۔ عوام کے حصے میں صرف قصے آتے ہیں، وہ قصے جن میں ہر روز ایک نئی ہوش ربا داستان شامل ہو جاتی ہے، گویا ہم جدید دور کی ’الف لیلیٰ‘ کا حصہ بن چکے ہوں۔دنیا نے ہماری آتش بازی کے رنگ نہیں دیکھنے، اسے وہی نظر آتا ہے جو عالمی اداروں کی رپورٹیں دکھا رہی ہیں۔ آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ پاکستان میں اشرافیہ کی بدعنوانیوں میں اضافہ ہوا ہے، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم گہری ہو رہی ہے اور غربت مزید پھیل رہی ہے۔ جس معاشی استحکام کو کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وقتی ہے اور اس کا بوجھ براہِ راست عوام اٹھا رہے ہیں۔ یوں بیانیے اور حقیقت کے درمیان فاصلہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ترقی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف عالمی اداروں کی وارننگ۔ آئینہ کچھ اور دکھا رہا ہے اور زبان کچھ اور بول رہی ہے، اور اس تضاد کی شدت عوام کی روزمرہ زندگی میں پوری طرح عیاں ہے۔

اسی تضاد کی سب سے نمایاں مثال قومی اثاثوں کی نجکاری ہے اور اس ضمن میں سب سے حساس اور دل دہلا دینے والا نام پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا ہے۔ پی آئی اے محض ایک ادارہ نہیں بلکہ قومی تاریخ، وقار اور شناخت کی علامت رہی ہے۔ برسوں کی بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور ناقص فیصلوں کے ذریعے اسے دانستہ کمزور کیا گیا اور اب اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر کہا جا رہا ہے کہ اس کا واحد حل نجکاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو علاج سے محروم رکھا جائے اور پھر اسے فروخت کے لیے پیش کر دیا جائے تو کیا اسے اصلاحات کہا جا سکتا ہے؟پی آئی اے کے پاس آج بھی قیمتی زمینیں، اسٹریٹجک روٹس، تربیت یافتہ عملہ اور خطے میں ایک پہچان موجود ہے مگر نجکاری کے بیانیے میں یہ سب ثانوی بنا دیا گیا ہے۔ بولیوں کی شفافیت پر سوالات، کم قیمت لگنے کا تاثر اور قومی مفاد کی مبہم تشریح اس خدشے کو بڑھاتی ہے کہ یہ قومی اثاثہ بھی اونے پونے داموں منتقل کر دیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے فیصلوں میں نقصان ہمیشہ عوام کا ہوا اور فائدہ چند مخصوص گروہوں کو پہنچا۔

اسی معاشی فضا میں یہ سوال بھی شدت سے ابھرتا ہے کہ اگر پاکستان واقعی ترقی کی راہ پر ہے تو کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ کر واپس کیوں جا رہی ہیں؟ غیر ملکی سرمایہ کاری سکڑ کیوں رہی ہے؟ اور کاروباری طبقہ عدم تحفظ کا شکار کیوں ہے؟ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں استحکام اور اعتماد ہو۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جن نوجوانوں نے بیرونِ ملک جانے کا فیصلہ کیا انھیں بھی اب روکا جا رہا ہے۔ نہ یہاں روزگار میسر ہے اور نہ باہر جانے کی راہ آسان۔ ایک پوری نسل درمیان میں لٹک چکی ہے۔دوسری طرف سڑکوں پر غریب لوگوں کو ہیلمٹ اور ٹریفک چالانوں کے ہزاروں روپے کے بوجھ نے
نچوڑ کر رکھ دیا ہے مگر کسی کو ترس نہیں آتا۔ ناجائز ٹیکسوں کے دباؤ میں پہلے ہی پسے عوام پر اب کوڑا ٹیکس بھی عائد کر دیا گیا ہے۔ صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے، مہنگائی عام آدمی کی کمر توڑ رہی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کو دیوار سے لگا چکی ہے، اور آٹا، دال، دوائیں اور ایندھن آج بھی خواب بنتے جا رہے ہیں۔

ایسے میں کروڑوں روپے کی آتش بازی اور نمائشی تقریبات خوشی کا تاثر نہیں دیتیں بلکہ بے حسی کا اعلان محسوس ہوتی ہیں۔ یہ سب کسی قدرتی آفت یا ناگہانی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص سوچ کا حاصل ہے ،وہ سوچ جس میں ریاست وسائل سے نہیں بلکہ نیت سے خالی دکھائی دیتی ہے۔

تشہیری منصوبوں پر ساری توانائیاں صرف کر رہی ہے تاکہ ایک بہتر تصویر پیش کی جا سکے، یقینا منصوبے اچھے ہیں مگر تب جب عوام خوشحال ہوںجبکہ یہاں توگزشتہ برس یہ حال رہاکہ فیصل آبادکی کپڑا مارکیٹوںمیں شدید مندی رہی اور یہی حال ہر جگہ رہا بلکہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور اسی بنیاد پر اب تعلیمی نجکاری کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔مسئلہ صرف نجکاری نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو ہر چیز کو محض منافع کے ترازو میں تولتی ہے اور مسائل کا حل نہیں بلکہ جان چھڑاؤ اور وقت ٹپاؤ جیسی حکمت عملیوںپر عمل پیرا ہونا فخر سمجھتی ہے۔

پٹاخوں کی روشنی میں سب سے واضح منظر یہ ہے کہ ریاستی وسائل خاموشی سے نیلام ہو رہے ہیں اور عوام کو تماشائی بنا کر مصروف رکھا گیا ہے۔’تجھے ہونا تھا فرشتوں سے بھی افضل،مگر ہائے انسان! تو درندوں سے بھی بدتر نکلا‘مرگِ احساس واقعی بدترین مرگ ہے، اور ہم اسی عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ نئے سال کے آغاز میں جو سوال پیدا ہوئے تھے، وہ آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں جو نہ سوچتا ہو، نہ خواب دیکھتا ہو، نہ حق اور باطل میں فرق کرتا ہو، اور خاموشی اختیار کر کے نہ صرف اپنے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر دے۔اگر ملک کو واقعی آگے بڑھنا ہے تو یہ سفر نعروں، چراغاں اور آتش بازی سے نہیں بلکہ شعور، سوال اور جواب دہی سے طے ہو گا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم صرف کرنے والوں سے نہیں بلکہ برداشت کرنے والوں سے بھی طاقت پاتا ہے۔ اور آخرکار یہی حقیقت بچ رہتی ہے کہ خاموشی بھی ایک جرم ہے اور اب بھی اپنے حقوق نہیں پہچانو گے تو کب پہچانو گے ؟

More posts