Baaghi TV

ادھوری بات، ادھورا علم،تحریر:پارس کیانی

بچپن ہمیشہ عجیب ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ہنس کر وہ سچ دکھا دیتا ہے جسے بڑے ہو کر بھی ہم نہیں سمجھ پاتے۔ مجھے آج بھی اپنا وہ بچپن یاد ہے جب ہمارے ایک چچا ہر محفل میں ایک عجیب شدت کے ساتھ ایک ہی بات دہراتے تھے۔ وہ علامہ اقبال رح کے شیدائی تھے، اور ان کے ایک مصرع نے تو جیسے ان پر جادو کر دیا تھا۔ جب بھی کہیں بیٹھتے، گفتگو ذرا سی رکتی تو وہ بڑے یقین سے کہتے:

"پھول کی پتی ہیرے کا جگر کاٹ سکتی ہے… علامہ صاحب نے فرمایا ہے!”

محفل میں لوگ چونک جاتے۔ کوئی ہنستا، کوئی بحث چھیڑ دیتا، مگر چچا جان اپنی جگہ اٹل رہتے۔
"بھئی، اقبال نے کہا ہے تو سچ ہی کہا ہوگا۔”
اور بس، بات وہیں ٹھہر جاتی۔
ایک دن کسی نے ہمت کر کے ان کو دوسرا مصرع سنا دیا:
"مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر”

مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے۔ چچا جان کی آنکھوں میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی اُتری، جیسے پوری زندگی ایک لمحے میں الٹ گئی ہو۔ انہوں نے پہلی بار جانا کہ وہ برسوں سے جس بات پر بضد تھے، وہ پوری تھی ہی نہیں۔ وہ صرف آدھا شعر تھا، اور آدھا سچ لے کر چلتے رہے ۔کبھی دوسرے مصرع کو غور سے پڑھنے کی اور سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔۔۔۔
اس دن پہلی بار سمجھ آیا کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اسی چچا جان کی طرح ہی ہیں، ادھوری بات سنتے ہیں، ادھوری سمجھتے ہیں، ادھورا علم لے کر پوری زندگی چل پڑتے ہیں۔
ہمارے گرد موجود اکثر گمراہیاں پوری غلط فہمی نہیں ہوتیں، صرف ادھی معلومات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
ہم لفظوں کے پہلے حصے سے فیصلے کرتے ہیں، جذبات کے پہلے جھٹکے سے رشتے توڑ دیتے ہیں، ایک سن کر دس کہہ دیتے ہیں، کوئی افواہ پوری سنی نہیں ہوتی اور ہم اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اکثر ماں باپ بچوں سے ادھی بات کرتے ہیں، استاد ادھی وضاحت پر اکتفا کرتے ہیں، بچے اسکول سے ادھی حقیقت اٹھا لاتے ہیں، اور ہم ساری زندگی ادھورے خیالات کے بوجھ تلے چلتے رہتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہم ادھی بات لے کر چلتے ہیں،
سوال یہ ہے کہ ہم پوری بات سننے میں ناکام کیوں ہیں؟
سماجیات کہتی ہے کہ انسان جلد نتیجہ نکالنے کی جبلّت رکھتا ہے۔
نفسیات بتاتی ہے کہ ذہن آدھی بات کو مکمل کہانی بنا لیتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بڑی غلطیاں، بڑی جنگیں، بڑے فتنہ و فساد… اکثر ایک ادھوری بات سے پھوٹے۔

اور روزمرّہ کی زندگی میں؟
ہم اپنے غلط مفروضے سنبھال کر رکھتے ہیں، انہیں عقیدے کی طرح برتتے ہیں، اور پھر کبھی پلٹ کر یہ نہیں دیکھتے کہ حقیقت کیا تھی۔ علم کی دنیا میں تو یہ بات اور بھی خطرناک ہے۔ آدھی کتاب، آدھا حوالہ، آدھا فہم، یہ سب انسان کو یقین کا ہتھیار دیتے ہیں، مگر حقیقت کا چراغ بجھا دیتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہم ادھوری بات سن کر چل پڑتے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ادھوری بات آگے بھی منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایسے ہی جملے، ایسے ہی غلط مفروضے اور ایسے ہی ادھورے حوالوں کو نسل در نسل پہنچاتے رہتے ہیں۔ کیا پتہ جو ہمارے سامنے غلط بول رہا ہے، کسی بات کو آدھا سن کر پورا سمجھ بیٹھا ہے، وہ خود بھی کسی ایسے ہی شخص کا شکار ہو جس نے اسے ادھوری بات کا تحفہ دیا تھا۔
یہ ذمہ داری ہم سب پر ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی کو کوئی علم دیں، کوئی حوالہ بتائیں، کوئی بات سمجھائیں، تو یہ یقین کر لیں کہ بات پوری پہنچی بھی ہے یا نہیں۔ علم چراغ کی طرح ہے؛ اگر ہم اسے آدھا ہی تھما دیں تو وہ روشنی نہیں دیتا، صرف دھند پیدا کرتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سننے والا بات کو کتنا سمجھ پایا ہے، کہاں خلا رہ گیا ہے، اور کہاں وضاحت کی ضرورت ہے۔
دنیا کو ادھورے فہم نہیں، مکمل اور سچّی باتوں کی ضرورت ہے، اور یہ ذمہ داری ہم سے شروع ہوتی ہے کہ ہم جو منتقل کریں، وہ پورا ہو، درست ہو، روشن ہو، اور آنے والے ذہنوں کو بھٹکائے نہیں بلکہ سمت دے۔
جب بھی ہم علم یا کوئی سوچ منتقل کریں، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اکثر جو ہمارے سامنے بات کر رہا ہے، اس کے پاس بھی علم ادھورا ہو سکتا ہے، کسی نے اسے بھی ادھوری بات ہی دی ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بات پوری کریں بلکہ سننے والے کی سمجھ بھی پرکھیں۔ پلٹ کر دیکھیں، جانچیں، اور اس بات کا یقین کر لیں کہ علم صحیح اور مکمل پہنچا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو ادھورے فہم کو ختم کرتا ہے اور زندگی کو روشن کرتا ہے۔

More posts