Baaghi TV

ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

محبت کے لغت نامے میں ایک لفظ "رقیب” ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کی گرد میں اٹا پڑا ہے ہم نے اسے دشمن سمجھ لیا، مخالف مان لیا اور بدخواہ قرار دے دیا حالانکہ محبت کے باب میں رقیب دشمن،مخالف یا بدخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تو محبت کے کمرے میں رکھا وہ آئینہ ہے جس میں حبیب کا چہرہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔رقیب وہ نہیں جو بیچ میں آ کر محبت چھین لے،قبضہ جما لے یا کانٹے کی طرح آنکھ میں کھٹکنے لگے-آپ پہلے محبت کے لفظ کو سمجھیں پھر معانی و مفہوم میں اتریں تو آپ پرکُھلے گا کہ محبت کسی ایک دل کی جاگیر نہیں یہ تو وہ روشنی ہے جو ایک سے زیادہ آنکھوں میں بیک وقت اُتر سکتی ہے،ایک سے زیادہ دلوں کا قرار بن سکتی ہے.

ہم نے محبت کو ملکیت بنا دیا ہے اسی لیے رقیب ہمیں چبھتا بھی ہے اور ڈنک بھی مارتا رہتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جسے ہم نے چاہ لیا اب اس پر صرف ہمارا حق ہے حالانکہ محبت حق سے زیادہ ذمہ داری ہے، دعویٰ ہی نہیں دعا بھی ہے اگر محبت کو احساس، احترام اور خیرخواہی کا نام دے دیا جائے تو رقیب کا تصور خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔محبت میں رقیب کا ہونا دراصل محبت کے دلچسب ہونے کی علامت ہے جہاں چاہت نہ ہو وہاں مقابلہ کیسا؟ جہاں دل نہ دھڑکے وہاں حسد کیسا؟ رقیب دراصل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ واقعی چاہے جانے کے لائق ہے،سراہے جانے کے قابل ہے محبت میں فلسفہ ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ قدر ہمیشہ اشتراک سے جنم لیتی ہے جو چیز صرف ایک آنکھ کو بھائے وہ ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن جو کئی دلوں کو اپنی طرف کھینچے وہ قدر بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک خوب صورت نظم اگر صرف ایک ہی شخص کو سمجھ آئے تو وہ ذاتی تجربہ یا ذاتی واردات ہے لیکن وہی نظم اگر کئی دلوں میں اتر جائے تو وہ ادب بن جاتی ہے۔حبیب اگر بیک وقت کئی دلوں میں جگہ بنا لے تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ حسن ہے اور رقیب؟ وہ تو اسی حسن کا قاری ہے، اسی نظم کا دوسرا سامع ہے،قدردان ہے.

رقیب ہونا دراصل ہم خیالی کا دوسرا نام ہے دو دل اگر ایک ہی دل سے قرار پائیں تو اس میں دشمنی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہم ذوق ہونا ہے،ہم آہنگی ہے یہ تو احساس کی یکسانیت ہے۔ رقیب وہ شخص ہے جو آپ ہی کی طرح کسی چہرے میں زندگی تلاش کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے حبیب کہتے ہیں اور وہ بھی—بس راستے جدا ہیں، نیت نہیں،محبت کی سب سے حسین صفت برداشت ہے وہ محبت جو فوراً غیرت کی تلوار اٹھا لے وہ محبت تو نہیں ہوسکتی محبت کے باب میں سچا عاشق وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ اگر اس کا محبوب واقعی قیمتی ہے تو اس کی قدر صرف اسے ہی کیوں محسوس ہو؟

محبت میں حبیب وہ نہیں ہوتا جو مل جائے،میسر آجائے یا دسترس میں ہی رہے بلکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو دل کا حال بہتر بنا دے جو آپ کو ظرف سکھا دے، برداشت سکھا دے،ایثار کرنے کا جذبہ آپکے اندر پیدا کردے اور یہ شعور دے کہ چاہنا قربانی کا نام ہے قبضے کا نہیں کئی بار زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کسی اور کے حصے میں چلا جاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد جو ٹھہراؤ، جو دانائی، جو وسعت آپ کے قلب و نگاہ میں آتی ہے وہی تو اصل ثمر ہوتا ہے یوں کوئی ایک انسان نہیں بلکہ ایک تجربہ حبیب بن جاتا ہے،ہم نے کہانیوں میں،واقعات میں اور ادب میں ہمیشہ رقیب کو ولن بنا کر پیش کیا دراصل رقیب محبت کا کمرہ امتحان ہوتا ہےرقیب کے احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ رقیب ہمیں یہ غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہماری چاہت انا پر کھڑی ہے یا خلوص پر اگر انا ہو تو حسد جنم لیتا ہے اگر خلوص ہو تو وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے بھلا جو شخص آپ کے محبوب کی خوشی چاہے، وہ آپکا دشمن کیسے ہو سکتا ہے،اسورج ایک ہے لیکن اس کی روشنی ہزاروں کھڑکیوں سے اندر آتی ہے کیا ایک کھڑکی دوسری کی دشمن ہے؟ نہیں، سب روشنی کے استقبال میں برابر رہا سرشار ہوتی ہیں محبوب اگر سورج ہے تو چاہنے والی کھڑکیاں ہیں۔ رقیب کوئی اور نہیں بس ایک اور کھڑکی ہے روشنی اس کی بھی وہی ہے اور آپ کی بھی.

محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ آپ حبیب کو آزاد چھوڑ دیں۔اس کی مسکراہٹ پر پہرا نہ بٹھائیں،اس کے انتخاب کو قید نہ کریں۔محبت اگر سمندر ہے تو رقیب ایک دریا ہے جو اسی میں آن ملتا ہے سمندر چھوٹا نہیں ہوتا،آپ دریا گناہ گار نہ ٹھہرائیں
جس لمحے آپ یہ سوچنے لگیں کہ
“اگر وہ میرا نہ ہوا تو کسی اور کا بھی نہ ہو”
اسی لمحے محبت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ محبت زندگی بانٹتی ہے، موت نہیں اگر آپ واقعی کسی کو چاہتے ہیں تو یہ بھی قبول کریں کہ شاید اس کی خوشی کسی اور راستے پر لکھی ہو یہی محبت میں ایثار ہے
رقیب کو دشمن سمجھنے والے دراصل محبت کو کم سمجھتے ہیں۔محبت اتنی ناتواں نہیں کہ ایک تیسرے کی آمد سے بکھر جائے اگر بکھر جائے تو مان لیجیے وہ محبت نہیں تھی وہ تو فقط عادتوں کی ورزش تھی یا خود پسندی کی ایک مصنوعی شکل و صورت محبت تو وہ ہے جو رقیب کے وجود میں بھی اپنی شرافت برقرار رکھے،اپنی زبان میں تلخی نہ آنے دے اور اپنے رویّے میں وقار قائم رکھے

یہ سب لفظوں کی قلعی نہیں نہ کسی منطق کا کرتب ہے یہ میری زندگی کی کمائی ہے، میرے زخموں کی روشنائی ہے، میرے ٹوٹنے سے جنم لینے والی دانائی ہے میں نے رقیب کو کتابوں میں نہیں اپنے دل کے آئینے میں پڑھا ہے۔میں نے اپنے نصیب کے رقیب کو پہچانا اور تسلیم کیا،اُس کے روبرو میری انا ہمیشہ خاموش رہی اور خیر خواہی بولتی چلی گئی.

دوستو!میرا رقیب میرا حبیب ہے،میرا طبیب ہے، میرا معلّم ہے، میرا مُصلِح ہے، میرا مربّی ہے، میرا ہم ذوق ہے، میرا مرشد ہے، میرا مونس ہے، میرا محرم ہے، میرا معتبر ہے، میرا منصف ہے، میرا مفسّر ہے، میرا محافظِ وقار ہے، میرا مظہرِ برداشت ہے، میری میزانِ محبت ہے،میرا رقیب میرے مقام و مرتبے کو گھٹاتا نہیں، بڑھاتا ہے وہ میری محبت کو کمزور نہیں کامل بناتا ہے .میرا رقیب کل بھی میرا حبیب تھا،آج بھی میرا حبیب ہے اور آئندہ بھی میرا حبیب ہی رہے گا کہ ہم دونوں ایک ہی پھول کے دو مالی ہیں

ہماری باہمی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے حق میں ہزاروں بار دستبردار ہو سکتے ہیں
وہ شہرِ خموشاں میں جا بسا اور میں اُس کی نشانیوں کو گلے سے لگائے محبت کے مزار سے کیا عہد نبھا رہا ہوں

More posts