عدالت نے مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں شہری نعیم خان کی ہلاکت کے کیس میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 22 اے کے تحت دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ واقعے کی باقاعدہ تفتیش کے لیے سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ فیصلہ فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔
درخواست مقتول نعیم خان کے ورثا کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نعیم خان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ درخواست میں انسپکٹر چوہدری شفقت، انسپکٹر سردار عاصم، انسپکٹر محسن شاہ، کانسٹیبل ملک عادل، عدنان غیور، علی شاہ اور بلال شاہ سمیت دیگر اہلکاروں کو نامزد کیا گیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق سی سی ڈی نے نعیم خان کو 30 نومبر کو تحویل میں لیا تھا، بعد ازاں اسے سرگودھا بائی پاس چکوال کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ عدالت کے اس حکم کے بعد واقعے کی قانونی کارروائی اور تفتیش کا آغاز متوقع ہے۔
مبینہ جعلی مقابلہ — سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا عدالتی حکم
