Baaghi TV

سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والا مبینہ فراڈ نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی ملزم ڈاکٹر سمیع اللہ سہرانی گرفتار

اسلام آباد/ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ)ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے محمد طارق خان سہرانی، سابق ریڈر سٹی مجسٹریٹ ڈیرہ غازی خان کے بیٹے ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کو اسلام آباد میں دھوکہ دہی، فراڈ اور بوگس چیک دینے کے مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا۔ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت سے عبوری ضمانت خارج ہونے پر پولیس تھانہ رمنا نے ملزم کو موقع پر گرفتار کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کے خلاف اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج تھے، جن میں ایف آئی آر نمبر 268/24 مورخہ 18 مئی 2024 بجرم 489-F تعزیرات پاکستان تھانہ گولڑہ، ایف آئی آر نمبر 707/24 مورخہ 6 اگست 2024 بجرم 489-F تھانہ رمنا اور ایف آئی آر نمبر 705/24 مورخہ 5 اگست 2024 بجرم 420/506 تعزیرات پاکستان تھانہ رمنا شامل ہیں۔

ان مقدمات میں ڈاکٹر سمیع اللہ خان کے علاوہ ہمایوں طارق خان ولد محمد طارق سہرانی، محمد طارق خان سہرانی اور محمد عبیداللہ ولد محمد طاہر سلطان اعوان کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔ یہ تمام ملزمان عرصہ دراز سے عدالتی مفرور تھے، جس کے باعث ان کے شناختی کارڈز نادرا اور پاسپورٹس بھی بلاک کر دیے گئے تھے۔

بعد ازاں محمد طارق خان سہرانی، ہمایوں خان سہرانی اور عبیداللہ اعوان نے سیشن جج اسلام آباد کی عدالت سے ضمانتیں حاصل کر لیں، تاہم ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی طویل عرصے تک روپوش رہا۔ گزشتہ ہفتے ایف آئی آر نمبر 707/24 میں اس نے عبوری ضمانت حاصل کی، جس کی باقاعدہ سماعت 9 جنوری 2026 کو ہوئی، جہاں جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ضمانت خارج کر دی۔

ضمانت مسترد ہونے پر پولیس نے ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کر لیا، جبکہ 10 جنوری 2026 کو علاقہ مجسٹریٹ اسلام آباد نے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل راولپنڈی بھیج دیا۔ ایف آئی آر نمبر 268/24 تھانہ گولڑہ کا مقدمہ تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سمیع اللہ خان سہرانی، اس کا حقیقی بھائی ہمایوں خان سہرانی اور دوست عبیداللہ اعوان منظم انداز میں لوگوں کو کاروبار کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم ہتھیاتے رہے ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ رقم وصول کرنے کے بعد ملزمان غائب ہو جاتے، فون نمبرز بند کر دیتے اور نئے شہروں میں منتقل ہو جاتے تھے۔ واپسی کا مطالبہ کرنے پر متاثرین کو سنگین دھمکیاں اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث متعدد افراد اپنی رقوم سے محروم ہو چکے ہیں۔

More posts