Baaghi TV

امن کا پرچاراور جنگ کے سائے،امریکہ کیاچاہتاہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

بورڈ آف پیس کانفرنس تک محدود،فلسطینیوں کا قتل عام جاری
امریکہ ،ایران کشیدگی نے خطے کاامن دائو پر لگادیا،دنیا خاموش کیوں؟
دنیا کو نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت،اعتماد سازی بھی ناگزیر
تجزیہ،شہزادقریشی
ایک طرف امن کاپرچاردوسری طرف جنگ کے سائے،دنیا ایک عجیب دو راہے پر کھڑی ہے،امریکہ میں امن کے نام پر کانفرنسیں منعقد ہو رہی ہیں،پالیسی ساز مستقبل کے نقشے بنا رہے ہیں،تھنک ٹینکس عالمی استحکام کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے افق پر بارود کی بو تیز ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ امن کی محفلیں واقعی جنگ کو روکنے کے لئے ہیں یا آنے والے کسی بڑے تصادم کی تمہید؟امریکہ میں ہونے والی حالیہ ’’بورڈ آف پیس‘‘نوعیت کی کانفرنسیں دراصل عالمی طاقتوں کی صف بندی کا حصہ ہیں،یہاں فیصلے کم اور سمت کا تعین زیادہ ہوتا ہے،بیانات میں امن کی بات کی جاتی ہے مگر پس منظر میں طاقت کا توازن،دفاعی حکمتِ عملی اور اتحادیوں کی ترجیحات زیرِ غور آتی ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ دو ستونوں پر کھڑی رہی ہے، سفارت کاری اور دباؤ، مسکراتے چہروں کے پیچھے سخت فیصلوں کی تیاری بھی جاری رہتی ہے،دوسری جانب ایران ہے،جو گزشتہ چار دہائیوں سے امریکی پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا ہوا ہے،ایرانی انقلاب کے بعد سے اعتماد کی خلیج کبھی پوری نہ ہو سکی،ایٹمی پروگرام، خطے میں اثر و رسوخ، اسرائیل کے ساتھ تناؤ اور خلیجی سیاست،یہ سب وہ عوامل ہیں جو واشنگٹن اور تہران کو آمنے سامنے رکھتے ہیں، 2015 کا جوہری معاہدہ امید کی ایک کرن تھا، مگر پابندیوں کی واپسی نے فضاء پھر مکدر کر دی،کیا امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے؟نظریاتی طور پر ہاں، عملی طور پر یہ فیصلہ آسان نہیں،ایران پر براہِ راست حملہ پورے خطے کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے،خلیج کی تیل گزرگاہیں، عالمی منڈیاں اور پہلے سے کمزور عالمی معیشت شدید متاثر ہوں گی،مزید یہ کہ ایران روایتی اور غیر روایتی دونوں انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مکمل جنگ کے امکانات کم اور محدود کارروائیوں، سائبر حملوں یا پراکسی کشمکش کے امکانات زیادہ سمجھے جاتے ہیں،اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی،چین اور روس جیسے ممالک طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،ایسے ماحول میں امریکہ کسی بھی بڑے عسکری قدم سے پہلے عالمی ردعمل اور اتحادیوں کی حمایت کا حساب ضرور لگائے گا،ایران بھی سفارتی تنہائی کے باوجود مکمل طور پر تنہا نہیں،

یہ تمام صورتحال ہمیں ایک نئے دور کی یاد دلاتی ہے،سرد جنگ کا نہیں بلکہ ’’سرد کشیدگی‘‘ کا دور، جہاں مکمل جنگ سے گریز کیا جاتا ہے مگر دباؤ، پابندیاں اور محدود تصادم جاری رہتے ہیں،امن کی کانفرنسیں ہوتی رہیں گی،بیانات جاری ہوتے رہیں گے،مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا عالمی طاقتیں تصادم کے دہانے سے پیچھے ہٹنے کا حوصلہ رکھتی ہیں؟دنیا کو اس وقت نعروں سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے،اگر امن کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ واقعی امن چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی پر زور دینا ہوگا،ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں اکثر کانفرنس ہالوں کی خاموشیوں میں جنم لیتی ہیں اور میدانوں کی گرج میں پروان چڑھتی ہیں۔

More posts