Baaghi TV

چوری ہونے پر انتھونی سے شہزادہ خالد بننے والے کو اٹھارہ سال قید کی سزا

امریکا کی ایک عدالت نے جعلی سعودی شہزادے کو فراڈ کے الزام میں 18 سال کی سزا سنا دی

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خود کو سعودی شہزادہ کہلوانے والے کولمبیا کے رہائشی 48 سالہ شخص کا نام انتھونی ہے جو امریکا میں شہزادہ سلطان بن خالد آل سعود اور کبھی عمر آل سعود کے ناموں کے ذریعے عوام سے دھوکا دہی کرتا رہا۔ انتھونی گینیاک کے والدین نے 1977ء میں اس وقت امریکی شہریت اختیار کرلی جب گینیاک کی عمر بہت کم تھی۔ اسے امریکہ کی پولیس نے 2017ء میں سفارتی نمبرپلیٹ والی ایک لگژری کار چلاتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا۔ وہ مہنگی گاڑیاں انٹرنیٹ پر eBay کی ویب سائیٹ سے خرید کرتا۔ دھوکہ دینے کے لیے خلیجی ملکوں‌ کے بنکوں کی جعلی دستاویزات اور چیک بکس دکھاتا بتاتا کہ اس کے بینک اکائونٹ میں 60 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم موجود ہے۔ 1993ء میں وہ انتھونی فائیو سٹار ہوٹل میں قیام پذیر تھا جہاں‌اس کی چوری ہوگئی۔ اس نے ‘شہزادہ خالد’ کے نام سے مقامی پولیس کو درخواست دی۔ پولیس نے سعودی سفارتخانے سے رابطہ کیا تو سفارتخانے نے کہا کہ فرضی یا جعلی نام ہے. یا نام پورا نہیں لکھا گیا. اس واقعہ کے بعد انتھونی شہزادہ خالد بن گیا اور لوگوں سے لین دین کر کے فراڈ شروع کر دیا. امریکی پولیس کی جانب سے گرفتاری کے بعد انتھونی نے اعتراف کیا کہ وہ انشورنس کمپنیوں، بنک کریڈٹ کمپنیوں، ہوٹلوں، دکانوں اور دیگر کے ساتھ دھوکا کرتا رہا،سفر کے لئے وہ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرتا رہا، لیموزین کار 7500‌ڈالر کرائے پر اس نے حاصل کر رکھی تھی. اس نے گرینڈ فلورڈین بیچ’ نامی سیاحتی مقام میں املاک بنانے کے لیے 14000 ڈالر قرض لیا مگر وہ رقم ادا نہیں‌ کی . مئی 2017 میں انتھونی کی حقیقت اس وقت کھلی جب اس نے میامی میں ایک پرتعیش ہوٹل میں سرمایہ کاری کی کوشش کی۔ ہوٹل مالکان نے پورک سے بنی مصنوعات کھانے کو کہا جس پر اس نے کھانے پر آمادگی ظاہر کی۔ میامی ہیرالڈ کے مطابق ایک پارسا مسلمان شہزادے کے لیے پورک ممنوع ہوتا ہے۔اس واقعہ کے بعد ہوٹل مالکان نے اسکے خلاف انکوائری مقرر کروائی. عدالت میں اس نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور عدالت نے اسے اٹھارہ سال چھ ماہ قید کی سزا سنا دی

More posts