وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اڈیالہ جیل، زمان پارک یا پاکپتن کا پیر خانہ وہ جگہیں نہیں جہاں ہر ہفتے اہل وعیال اور چند کرائے کے افراد کے ساتھ تماشہ لگایا جائے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ان کی پارٹی کے کسی عہدے دار کی موجودگی نہیں ہوتی اور بعض اوقات خواتین کو سیاسی مقاصد کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ پولیس صرف تب حرکت میں آتی ہے جب قانون کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ پولیس کے ساتھ بدتمیزی یا ہاتھا پائی کریں تو کیا پولیس خاموش رہ سکتی ہے؟
عظمیٰ بخاری کے مطابق قانون کی عملداری اور سیکیورٹی اداروں کی شفاف کارکردگی ہر شہری کی ذمہ داری اور فریضہ ہے، اور کسی بھی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے پولیس کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔
عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے بیان پر سخت ردِعمل
