Baaghi TV

بسنت یا انسانی جان، قوم کا امتحان؟ تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

hafi masood ahar

بسنت بے شمار خرابیوں، بربادیوں کا مجموعہ، معاشرتی اقدار اور ریاستی رٹ کے قتلِ عام کی علامت بن گئی ۔ جس کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں، اعضا اور محنت کی کمائی سے ادا کرتے رہے ، اگر چہ بسنت کو خوشی کے ایک تہوار کا نام دیا حالانکہ یہ خوشی کا تہوار نہیں بلکہ ایک ایسا خونی تہوار اور سفاکیت کی علامت بن گیا جس کی ڈور تلوار کی طرح گردنیں کاٹ دیتی ہے ، موٹر سائیکل سوار موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں ، جس کے شیشے، کیمیکل اور دھات سے بنے دھاگوں نے شہر میدانِ جنگ بنا دیے !

پرویز مشرف حکومت کے خاتمہ کے بعد جب نئے انتخابات ہوئے تو پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ بنے انھوں نے بسنت منانے ، پتنگیں اڑانے پر سخت پابندی لگا دی ۔ اس پابندی کی وجہ سے پنجاب کے عوام نے سکھ اور سکون کا سانس لیا ۔ کئی سال تک پنجاب میں امن اور سکون رہا لیکن معلوم نہیں کیا وجہ بنی کہ میاں شہباز شریف کی بھتیجی اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو یہ سکون پسند نہ آیا انھوں دوبارہ سے سرکاری سطح پر بسنت منانے اور پتگیں اڑانے کی اجازت دے دی ہے ۔ شنید ہے کہ لاہور کے بعد پنجاب کے باقی شہروں میں بھی یہ ہندووانہ خونی تہوار منایا جائے گا ۔

نام نہاد تفریح کے نام پر معصوم شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دی گئیں ۔ اس خونی ہندووانہ رسم کی وجہ سے کئی بچے یتیم ہوئے ، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لاتعداد گھر اجڑ گئے ہیں ۔ یہ حقیقت اب کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ بسنت تفریح نہیں بلکہ ایک قاتل سرگرمی بن چکی ہے۔
کہنے کی حد تک ایک ڈور ہے ، ایک پتنگ ہے اور ایک وہ ہے جو اس پتنگ کو اڑانے والا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک قاتل ڈور ہوتی ہے جو ا نسانی لاشیں گراتی ہے ۔ بسنت کے دوران استعمال ہونے والی ڈوریں براہِ راست انسانی قتل کا ذریعہ بن چکی ہیں۔یہی وجہ ہے اس بار بھی کئی افراد موت کے گھاٹ اترے اور درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے ، کئی افراد کے سر قلم ہوئے یا گردن کٹنے جیسے ہولناک حادثات کی وجہ سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔یہ ایک ایسا قبیح عمل ہے کہ جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار، مزدور، طالب علم یہاں تک کہ اسکول جاتے بچے محفوظ نہیں۔
اس دفعہ جب بسنت منائی گئی اس دن سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی، ڈاکٹر اور نرسیں اضافی ڈیوٹیاں انجام دیتے رہے ، ریاست لاکھوں روپے صرف اس لیے خرچ کرتی ہے کہ چند لوگ آسمان پر کاغذ اڑا سکیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ اخراجات کس نے ادا کئے ؟
کیا ریاست نے ؟ نہیں۔
کیا حکومت نے ؟ نہیں۔
یہ قیمت عام شہری، ٹیکس دہندہ اور متاثرہ خاندانوں سے وصول کی گئی ۔
بسنت کا سب سے تاریک پہلو وہ معصوم بچے ہیں جو چھتوں پر پتنگ لوٹتے ہوئے گر کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں، یا جن کی گردن قاتل ڈور سے کٹ جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کے لیے بسنت ایک دن نہیں بلکہ عمر بھر کا زخم بن جاتی ہے ، کوئی قانون، کوئی روایت، کوئی ثقافت اس دکھ کا مداوا نہیں کر سکتی۔
بسنت کی وجہ سے صرف معاشی نقصان ہی نہیں ہوتا بلکہ چھتوں سے زیادہ قبرستان آباد ہوتے ہیں ۔
بسنت کو سیاحت اور معیشت کے فروغ کا ذریعہ قرار دینے والے یہ حقیقت جان بوجھ کر چھپاتے ہیں کہ اس تہوار سے ہونے والا مالی اور جانی نقصان اس کے مبینہ فوائد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ بجلی کے تار کٹتے ہیں ، ٹرانسفارمر جلتے ہیں ، انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہوتی ہے ، عمارتوں، گاڑیوں اور سولر سسٹمز کو نقصان پہنچتا ہے ، پولیس، ریسکیو اور ہسپتالوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے
افسوس کہ بسنت مافیاجس میں صنعتکار، سیاست دان اور بااثر حلقے شامل ہیں بڑے بڑے پلازوں اور حویلیوں کی چھتوں پر پتنگیں اڑاتے جبکہ لاشیں ہمیشہ غریبوں کے حصے میں آتی ہیں۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات مت بھولیں کہ ہمارے دین نے انسانی جان کو سب سے قیمتی قرار دیا ہے۔ ایک جان کا ضیاع پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ ایسے میں ایک ایسی سرگرمی جو مسلسل جانیں لے رہی ہو، اسے ثقافت کے نام پر جائز قرار دینا بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے ۔
معاشرے وہی ترقی کرتے ہیں جو تفریح اور ذمہ داری کے درمیان حد قائم رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے یہ حد کب کی پار کر لی ہے۔
میڈیا اور اشرافیہ کا کردار بھی قابل افسوس ہے ۔میڈیا بسنت کو رنگین مناظر، ڈرون شاٹس اور موسیقی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اشرافیہ محفوظ فارم ہاؤسز اور بلند عمارتوں پر جشن مناتی ہے، جبکہ سڑکوں پر مرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں۔یہ طبقاتی تفریق بسنت کو مزید قابلِ نفرت بنا دیتی ہے۔ حل کیا ہے؟ حل کوئی مشکل نہیں، بس نیت کی ضرورت ہے مکمل اور مستقل پابندی قاتل ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے پر پابندی اور ناقابلِ ضمانت سزائیں ۔
اس سلسلہ میں عوامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ جب تک لاشوں کے بدلے صرف بیانات آتے رہیں گے تب تک بسنت قاتل ہی رہے گی۔
آخری سوال
کیا ہم واقعی ایک ایسی قوم ہیں جو چند گھنٹوں کی تفریح کے لیے اپنے بچوں کی جانیں قربان کرنے پر تیار ہیں؟یا پھر اب بھی وقت ہے کہ ہم فیصلہ کریں ۔۔۔۔بسنت یا انسان۔۔۔۔؟ یہ فیصلہ ریاست کو بھی کرنا ہے، معاشرے کو بھی اور ہر اس فرد کو بھی جو بسنت کو محض تفریح کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ بسنت پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی تھی جو قیمتی انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع کے بعد لگائی گئی تھی۔ عدالتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خود حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھیں کہ بسنت ایک خطرناک، جان لیوا اور ناقابلِ کنٹرول سرگرمی بن چکی ہے۔ مگر اس کے باوجود حالیہ برسوں میں پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں بسنت منانے کا اقدام نہ صرف افسوسناک بلکہ اخلاقی، انتظامی اور انسانی سطح پر مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے۔
جب ایک حکومت خود اس سرگرمی کو فروغ دے جس پر وہ ماضی میں پابندی لگا چکی ہو تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ریاستی فیصلے لاشوں کی تعداد کے مطابق بدلتے رہیں گے؟ کیا وہی سرگرمی جو کل قاتل تھی، آج محض اس لیے ثقافت بن گئی کہ سیاسی فائدہ یا وقتی مقبولیت حاصل کی جا سکے؟ یہ دوغلا پن دراصل عوام کو یہ پیغام دیتا ہے کہ انسانی جانوں کی کوئی مستقل قدر نہیں، سب کچھ سیاسی مفاد کے تابع ہے۔
سرکاری سطح پر بسنت کی اجازت دینا درحقیقت بسنت مافیا کو کھلی چھوٹ دینے کے مترادف ہے، جو اب یہ دعویٰ کرتا ہے کہ جب حکومت خود پشت پناہی کر رہی ہے تو پابندی، قانون اور احتیاط کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اس سرکاری سرپرستی نے نہ صرف قانون کی ساکھ کو مجروح کیا ہے بلکہ ان تمام خاندانوں کے زخم بھی ہرے کر دیے ہیں جنہوں نے ماضی میں بسنت کی نذر ہو کر اپنے پیارے کھوئے تھے ۔
یہ فیصلہ دراصل ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے:آج بسنت، کل کوئی اور جان لیوا روایت۔۔۔۔ یوں ریاست خود اپنے شہریوں کی قاتل بن جاتی ہے۔

More posts