گجر خان گرین بس سروس کو صرف پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود کر دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک عوامی سہولت کے وژن کو محدود کرنے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ جب مریم نواز شریف نے گجر خان سے راولپنڈی تک آرام دہ اور محفوظ سفری سہولت کا اعلان کیا تو اس کا بنیادی مقصد طلبا و طالبات، بزرگ شہریوں، ملازمت پیشہ افراد اور خصوصاً خواتین کو باوقار اور سستا سفر فراہم کرنا تھا۔لیکن اگر اس سروس کو شہر کے مرکزی مقامات تک پہنچانے کے بجائے پولیس ٹریننگ اسکول تک محدود رکھا گیا ہے تو اس سے اصل فائدہ اٹھانے والے طبقات کو مکمل سہولت میسر نہیں آ سکے گی۔ روزانہ کی بنیاد پر کالجز، یونیورسٹیوں، ہسپتالوں اور دفاتر جانے والوں کے لیے منزل تک رسائی ہی اصل سہولت ہوتی ہے، نہ کہ نصف راستے تک۔
ضلعی انتظامیہ راولپنڈی کے اس اقدام سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ شاید نچلی سطح پر منصوبہ بندی میں وہ سنجیدگی نہیں دکھائی گئی جس کی عوام توقع رکھتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ کی نیک نیتی اور عوامی ریلیف کے وژن کو بیوروکریسی کی سطح پر مکمل عملدرآمد نہ ملے تو ایسے منصوبے اپنی افادیت کھو دیتے ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ٹریفک، سیکیورٹی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا؟ اگر ایسا ہے تو عوام کو اعتماد میں لینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ شفافیت ہی اعتماد کو جنم دیتی ہے۔گجر خان کے عوام خصوصاً طلبا، طالبات اور خواتین یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں مکمل اور براہِ راست سفری سہولت فراہم کی جائے، تاکہ حکومتی وعدہ عملی شکل میں نظر آئے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے اور گرین بس سروس کو اس کے اصل روٹ تک توسیع دے، تاکہ وزیراعلیٰ کے عوامی وژن کی حقیقی تعبیر سامنے آ سکے۔
