گزشتہ چار ماہ سے کچھ نہیں لکھ پایا کہ آج کل نشہ ریل(Reel) میں مبتلا ہوں۔ کچھ دن قبل انسٹاگرام پر سکرولنگ کرتے، حمرا شعیب کی کتابیں نظر سے گزریں۔ آج کل میرا رجحان پرانے لکھاریوں کی کتب خریدنے سے کہیں زیادہ نئے قلم کاروں کی طرف ہو چلا ہے۔ اس رجحان نے بیسیوں مرتبہ پریشان بھی کیا۔مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سلسلے کی پرائمری وجہ اچھی تحریر پڑھنا نہیں، بلکہ بطور لکھاری ایک خاموش سا مقصد ہے۔ سو ہم نے حمرا شعیب کی دو کتب منگوا لی۔ ” یادوں کی لکیریں” مصنفہ مصوفہ کی پہلی تصنیف ہے، اور حجم میں بھی قدرے مختصر ہے،سو اسکا مطالعہ پہلے کرنے کا ارادہ بنا۔ پڑھ کر پبلیکیشن ہاؤس کو کوسا،اور مصنفہ کےقلم کے لیے بے ساختہ دعائیں نکلی۔یہ کتاب دراصل مصنفہ کی نانی کی زندگی کی یادداشتوں، وفا،دکھوں اور صبر کی خاموش جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار حالات کی سختیوں کے باوجود، صبر و وفا کا دامن نہیں چھوڑتا۔ گو کہ کتاب کا اسلوب بہت ہی سادہ ہے مگر مصنفہ نے تمام واقعات کو محض واقعات کے طور پر نہیں بلکہ احساس کی شکل میں پیش کیا، جو کہ کہانی کو اثر انگیز بناتا ہے۔ اس کتاب کی ایک ہی خوبی ہے کہ یہ خلوص اور سچائی پر مشتمل ہے نا کہ بناوٹی ہے۔ بیماری، جدائی، موت، سماجی جبر اور عورت کی بے لوث قربانی جیسے کئی واقعات نہایت سادگی سے سامنے آتے ہیں، تو بعض دفعہ نانی کے مکالمے اور جملے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر بیان و مکالمہ کی غیر ضروری طوالت و جملوں کی تکرار نے کہانی اور روانی دونوں کو متاثر کیا۔ کہانی بعض مقامات پر فکری و زمانی ترتیب کھو دیتی ہے۔ اور ابواب کے درمیان کمزور ربط بھی بطور قاری کے لیے مشکلات کا باعث رہا۔ منظر نگاری میں یکسانیت اور فنی سطح پر بہتری کی گنجائش تھی۔ لفظ مصنف کے ہوتے ہیں، مگر ورق (کتاب) پبلیکیشن ہاؤس کی۔ مگر بدقسمتی سے کتاب دیکھ کر پبلیکیشن ہاؤس کی غفلت نمایاں طور پر نہیں آئی۔ املا، رموز اوقات اور زبان کی بنیادی غلطیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ مسودہ کسی معیاری ادارتی عمل سے گزرا ہی نہیں۔ متن کی ترتیب، پیراگراف کی نشت۔۔۔۔ افسوس۔ مگر لفظوں کی چمک دمک سے پرے، سچائی کی سیاہی سے لکھنے پر حمرا شعیب کو مبارک باد اور دعائیں۔
