Baaghi TV

چیکر خدا نہیں ہوتا،تحریر: مبراء عبدالقیوم

ایک بچے کے چند نمبروں کا سوال نہیں، پورے نظامِ امتحانات کے انصاف کا سوال ہے۔ 486 نمبر یقیناً معمولی نہیں۔ یہ ایک بچے کی محنت، اس کے والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی تربیت کا خوب صورت نتیجہ ہیں۔ مگر کبھی کبھی اچھے نمبر بھی ایک سوال اپنے اندر چھپا لیتے ہیں: کیا بچے کو وہی ملا جس کا وہ حق دار تھا؟
یہ سوال کسی ایک بچے کا نہیں۔

یہ سوال ہر اس بچے کا ہے جو سال بھر کتابوں میں سر کھپاتا ہے، راتیں جاگتا ہے، امتحان دیتا ہے اور پھر اپنی قسمت ایک چیکر کے قلم کے حوالے کر دیتا ہے۔فرض کیجیے ایک بچے نے 555 میں سے 486 نمبر حاصل کیے۔ بظاہر یہ شاندار کارکردگی ہے۔ مگر اگر اس کی جوابی کاپی دیکھنے پر معلوم ہو کہ بعض جوابات درست ہونے کے باوجود ان پر متضاد نشان لگائے گئے، کہیں نمبر کاٹنے کی وجہ واضح نہیں، یا کسی جواب کی جانچ میں انسانی غلطی کا امکان موجود ہے، تو سوال اٹھتا ہے،کیا صرف اس لیے خاموش ہو جائیں کہ 486 نمبر بھی اچھے ہیں؟
نہیں!

کیونکہ بچے کے لیے یہ صرف چند نمبروں کا معاملہ نہیں ہوتا ہے۔ یہ چند نمبر کبھی پوزیشن بناتے یا توڑتے ہیں۔ یہ میرٹ لسٹ میں جگہ بدل سکتے ہیں۔ یہ کسی اسکالرشپ، کسی داخلے یا کسی اگلے موقع پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
اور کبھی کبھی یہ بچے کے دل میں یہ سوال بھی پیدا کر دیتے ہیں کہ: "میں نے اتنی محنت کی، پھر میرے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہوا؟”
اور یہاں اصل سوال چیکر سے نہیں، نظام سے ہے۔
ہم مانتے ہیں کہ چیکر بھی انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے۔ مسلسل سینکڑوں پرچے چیک کرتے ہوئے انسانی غلطی کا امکان بہرحال موجود رہتا ہے۔

مگر اگر چیکر سے غلطی ہو سکتی ہے تو نظام کو غلطی کی اصلاح کا راستہ بھی دینا چاہیے۔ چیکر خدا نہیں ہوتا کہ اس کے قلم سے نکلا ہوا ہر فیصلہ آخری فیصلہ بن جائے۔ وہ ایک ذمہ دار انسان ہے، اور اس کی ذمہ داری بہت بڑی ہے کیونکہ اس کے سامنے صرف ایک کاغذ نہیں ہوتا؛ اس کاغذ کے پیچھے ایک بچے کی محنت، اس کے والدین کی امیدیں اور اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر بچہ صرف دعویٰ کرے اور اس کے نمبر بڑھا دیے جائیں۔

ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ:
اگر کسی بچے کو اپنی جوابی کاپی میں واضح بے ضابطگی یا چیکنگ کی غلطی نظر آتی ہے تو اسے مؤثر طریقے سے سوال اٹھانے اور آزادانہ طور پر دوبارہ جانچ کروانے کا حق کیوں نہ ہو؟
اگر پہلی نظر ہی آخری نظر ہے، اگر پہلے چیکر کا فیصلہ ہی حتمی ہے، اگر بچے کے پاس سوال کرنے کا حق نہیں، تو پھر ہم شفافیت کی بات کیسے کریں گے؟
ذرا ان بچوں کے بارے میں بھی سوچیں جن کے نمبر 300 یا 400 ہیں۔
ہم ایک ایسے بچے کی بات کر رہے ہیں جس کے 486 نمبر ہیں اور جس کے چند اضافی نمبر بھی اس کی پوزیشن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
مگر اس سے کہیں بڑا سوال ان بچوں کا ہے جن کے 300، 350 یا 400 نمبر آئے ہیں۔
کیا معلوم ان میں سے کتنے بچے ایسے ہوں جن کے پانچ، دس، پندرہ یا اس سے زیادہ نمبر چیکنگ کی غلطیوں کی نذر ہو گئے ہوں؟
ہم کیسے جانیں گے؟
اگر بچے کو اپنی کاپی پر سوال کرنے کا مناسب حق ہی نہیں دیا جائے گا تو ہمیں کیسے معلوم ہوگا کہ اس کے اصل نمبر کیا تھے؟
ایک بچے کے لیے دس نمبر معمولی لگ سکتے ہیں، مگر اس بچے کے لیے وہ دس نمبر اس کی پوری سال بھر کی محنت کا حصہ ہیں۔

بچے مشینیں نہیں، انسان ہیں۔ وہ صرف مارکس شیٹ پر لکھے ہندسوں کا مجموعہ نہیں ہوتے ہیں۔ ایک بچہ جب امتحان دیتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے والدین کی امیدیں، اساتذہ کی محنت، اس کی اپنی راتوں کی جاگ، اس کے خواب اور مستقبل کے ارمان بھی امتحانی کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس لیے امتحانی نظام کا مقصد صرف پرچے چیک کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر بچے کو اس کی حقیقی کارکردگی کے مطابق انصاف ملے۔ اور اگر کہیں غلطی ہو جائے تو اسے چھپانے یا نظر انداز کرنے کے بجائے درست کرنے کا راستہ موجود ہو۔
ہمیں کیا چاہیے؟
ہم کسی فرد کو نشانہ نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ایک بہتر نظام چاہتے ہیں۔
ایسا نظام جہاں: بچے کو اپنی جوابی کاپی کی جانچ پر اعتراض کا باقاعدہ حق ہو۔ اعتراض کی صورت میں آزاد اور غیر جانب دارانہ دوبارہ جانچ ممکن ہو۔
واضح غلطی سامنے آنے پر اسے درست کیا جائے۔
چیکنگ میں انسانی غلطی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین ہو۔
پوزیشن اور میرٹ جیسے حساس معاملات میں اضافی شفافیت رکھی جائے۔
اور سب سے بڑھ کر، بچے کی آواز کو محض اس لیے خاموش نہ کیا جائے کہ وہ ایک طالب علم ہے۔
کیونکہ طالب علم ہونا بے اختیار ہونا نہیں۔
یہ میری بیٹی کا مسئلہ نہیں!

آج اگر ایک بچی کی جوابی کاپی میں کوئی سوال اٹھتا ہے تو بات صرف اس بچی تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔
کل یہی سوال کسی دوسرے بچے کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔ آج کسی کی پوزیشن چند نمبروں سے رہ سکتی ہے،
کل کسی کا میرٹ متاثر ہو سکتا ہے، پرسوں کسی کا داخلہ یا اسکالرشپ۔
اس لیے آواز ایک بچے کے لیے نہیں، ہر بچے کے لیے اٹھنی چاہیے۔ ہمیں بچوں کو یہ نہیں سکھانا کہ”جو فیصلہ ہو گیا، بس خاموشی سے قبول کرلو۔”
ہمیں انہیں یہ سکھانا ہے کہ:
انصاف مانگنا بدتمیزی نہیں، اپنے حق کے لیے سوال اٹھانا بغاوت نہیں، اور غلطی کی اصلاح چاہنا کسی پر الزام لگانا نہیں۔
آخر میں بس اتنا:
چیکر خدا نہیں ہوتا، وہ انسان ہے۔ اس سے غلطی ہو سکتی ہے مگر ایک مہذب اور منصفانہ نظام وہ ہوتا ہے جو انسان کی غلطی کو بھی تسلیم کرے اور اسے درست کرنے کا راستہ بھی دے۔ کیونکہ ایک بچے کا مستقبل کسی ایک قلم کی غلطی کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔
اور اگر ہم آج اپنے بچوں کے حقِ انصاف کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے، تو کل شاید ہمارے پاس صرف یہ کہنے کے لیے رہ جائے گا:
"بچہ قابل تو تھا… مگر چیکنگ کچھ اور کہہ گئی!”

More posts