اسلام آباد میں ہونے والا بم دھماکہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس نے پوری قوم کو غم، صدمے اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض چند جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی، ریاستی بیانیے اور اجتماعی شعور کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ دہشت گردی کا یہ ناسور آج کا پیدا کردہ نہیں بلکہ پاکستان پر مسلط کردہ دہشت گردی کی ایک طویل، منظم اور مسلسل جنگ کا تسلسل ہے جو برسوں سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ ایک بدیہی اصول ہے کہ کسی بھی سنگین مسئلے کا حل جذبات، مفروضات یا عجلت میں لگائے گئے الزامات میں نہیں بلکہ اس کی درست اور دیانت دارانہ تشخیص میں مضمر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو سطحی تجزیے یا سیاسی مصلحتوں کی نذر کیا گیا اس کا خمیازہ پوری قوم نے بھگتا ہے ۔
اس پس منظر میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ موجودہ عسکری قیادت بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف ایک واضح، غیر مبہم اور حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کا یہ مؤقف محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات اور اسٹریٹجک وژن کا آئینہ دار ہے۔ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم اور اس کے اصل محرکات کی نشان دہی دونوں ایک سنجیدہ ریاستی سوچ کی عکاس ہیں۔انھوں نے واضح طور پر دہشت گردی کی تشخیص کرتے ہوئے کہا کہ فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ آج یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ اس کے تانے بانے بیرونی سرپرستی بالخصوص بھارت سے جا ملتے ہیں۔ مختلف شواہد، اعترافات اور بین الاقوامی رپورٹس اس امر کی تصدیق کر چکی ہیں کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گرد گروہوں کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والا حالیہ دھماکہ بھی اسی منظم فتنہ کا تسلسل ہے جس کا مقصد صرف جانی نقصان نہیں بلکہ قوم کو فکری، مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنا ہے۔ ایسے نازک موقع پر ریاستی عہدیداروں سے غیر معمولی احتیاط، تدبر اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔اسی تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے دیا گیا بیان نہایت افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قطعی طور پر قومی مفاد کے منافی ہے ۔ کسی مخصوص مسلک، خصوصاً سلفی مکتبِ فکر کو دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف زمینی حقائق سے انحراف ہے بلکہ یہ پاکستانی قوم کو مذہبی ، سماجی ، فکری اور معاشرتی طور پر تقسیم کرنے اور ہم آہنگی پر ایک کاری ضرب بھی ہے۔ یہ طرزِ فکر دراصل دہشت گردوں کے ایجنڈے کو تقویت دینے ، جلتی پر تیل چھڑکنے اور گھر پھونک تماشا دیکھ کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پاکستان میں سلفی مکتبِ فکر کبھی بھی دہشت گردی کا سبب نہیں رہا بلکہ سلفی مکتب یا اہلحدیث مکتب فکر کے علما ، زعما اور قائدین وکارکنان کا پاکستان کے قیام ، ملک عزیز میں امن وامان کے استحکام اور تزئین گلستان میں نمایاں کردار رہا ہے۔اہلحدیث مکتب فکر کے علما وزعما اور قائدین جیسا کہ علامہ احسان الہی ظہیر شہید ، علامہ حبیب الرحمن یزدانی ، ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر، مولانا ابراہیم سلفی جیسے درجنوں علما دہشت گردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں جبکہ افغانستان میں شیخ جمیل الرحمن سمیت درجنوں جید علماء کا خون اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی نے مسلک نہیں دیکھا، بلکہ ہر اس آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے جو اتحاد واتفاق کی آواز تھی اور جو شدت پسندی کے خلاف کھڑی تھی۔
دہشت گردی کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرنا بذات خود ایک بدترین فکری اور مذہبی دہشت گردی کی ایک شکل ہے، جو قوم کو آپس میں دست و گریبان کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ وہی حکمتِ عملی ہے جسے دشمن برسوں سے آزما رہا ہے اور بدقسمتی سے خواجہ آصف جیسے لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اس میں دانستہ یا نادانستہ سہولت کار بن جاتے ہیں۔یہ بات سمجھنے کی ہے کہ وزارتِ دفاع جیسے حساس منصب پر فائز شخص جب ملک کو درپیش کسی بھی مسئلے پر جب کوئی بات کرے تو اس کے الفاظ محض ذاتی رائے نہیں ہوتے بلکہ ریاستی مؤقف سمجھے جاتے ہیں، جن کی دھمک پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے ۔دنیا ایسے بیانات کی روشنی میں پالیسیاں بناتی ہے ۔وزارت دفاع جیسے اہم منصب پر بیٹھ کر قومی سلامتی کے منافی ، فرقہ وارانہ اور غیر محتاط گفتگو کرنے والے خواجہ آصف نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دے رہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کو بدنام کرنے اور ریاست کے بیانیے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں ۔ افسوس کہ خواجہ آصف کا طرزِ عمل بارہا سنجیدگی، ذمہ داری اور ریاستی وقار کے تقاضوں سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔وہ اس سے پہلے بھی بارہا دفعہ افواج پاکستان کے خلاف نامناسب گفتگو کر چکے ہیں ۔ یہاں یہ حقیقت بھی پوری قوت سے یاد رہنی چاہئے کہ افواجِ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں افسران اور جوانوں کی شہادتیں، لاتعداد زخمی اور اربوں روپے کے وسائل اس جنگ کی نذر ہوئے ہیں ۔ یہ قربانیاں کسی ایک ادارے کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے امن، سلامتی اور مستقبل کے لیے ہیں ۔
ایسے حالات میں افواجِ پاکستان پر الزام تراشی، یا ان کے بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش، دراصل ان قربانیوں کی توہین کے مترادف ہے۔ قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد رکھنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور اس کی ذمہ داری سب سے بڑھ کر سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ سوال پوری سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا وزارتِ دفاع جیسی حساس ذمہ داری ایسے افراد کے سپرد رہنی چاہیے جو نازک قومی معاملات میں تدبر اور احتیاط کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہوں؟ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل جنرل سید حافظ عاصم منیر کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیونکہ یہ محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے۔ یہاں میں اس بات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث مسلم لیگ (ن ) کی اتحادی جماعت ہے ۔خواجہ محمد آصف نے اسلام آباد بم دھماکہ کا الزام سلفی مکتب فکر پر عائد کرکے پاکستان کے تین کروڑ اہلحدیثوں کی توہین کی ہے ۔ مزید یہ کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو خواجہ آصف کے شرر انگیز بیان کی جس طرح سے مذمت کرنی چاہئے تھی ۔۔۔۔نہیں کی ہے ۔ ہمارے قائدین کی انہی سستیوں کی وجہ سے دوسروں کو شرر انگیزی کا موقع ملتا ہے جو کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی بلکہ درست تشخیص، ذمہ دارانہ بیانیے اور قومی یکجہتی سے لڑی جاتی ہے۔ اسلام آباد کا یہ سانحہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر ہم نے الزام تراشی، مسلکی تقسیم اور غیر سنجیدہ سیاست کا راستہ نہ چھوڑا تو دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اصل دشمن کو پہچانیں، افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنیں اور پاکستان کو فکری و عملی طور پر محفوظ بنانے کی جدوجہد میں یکسو ہو جائیں۔
