الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے لیے خاموش خطرہ؟
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
آج کے نوجوانوں میں الیکٹرک سگریٹ یا ویپ (Vape) ایک فیشن بن چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جدیدیت کا ایسا پہلو ہے جو صحت کے لیے سنگین خطرات رکھتا ہے۔ معاشرتی سطح پر اسے محفوظ متبادل اور سگریٹ چھوڑنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔
الیکٹرک سگریٹ ایک بیٹری سے چلنے والا آلہ ہے جس میں E-liquid استعمال ہوتا ہے، جو گرم ہو کر بھاپ میں تبدیل ہوتی ہے اور سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچتی ہے۔ یہ مائع عموماً نکوٹین، خوشبو دار فلیورز اور دیگر کیمیائی مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگرچہ دھواں نہیں نکلتا، مگر بھاپ میں موجود باریک زہریلے ذرات پھیپھڑوں تک پہنچ کر شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
نکوٹین سب سے خطرناک عنصر ہے، جو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ کئی الیکٹرک سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار عام سگریٹ سے زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل اس کی لت میں پھنس رہی ہے۔ نکوٹین وقتی سکون فراہم کرتی ہے، مگر ذہنی بے چینی، چڑچڑاپن اور ڈپریشن کو فروغ دیتی ہے۔
پھیپھڑوں پر اثرات کے علاوہ نکوٹین دل اور خون کی نالیوں کو بھی متاثر کرتا ہے، دل کی دھڑکن تیز اور بلڈ پریشر بڑھاتا ہے، جس سے دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ نوجوان، جو خود کو صحت مند سمجھتے ہیں، کم عمری میں دل کے مریض بن رہے ہیں۔
الیکٹرک سگریٹ کے فلیورز بھی خطرناک ہیں۔ اسٹرابری، آم، چاکلیٹ اور منٹ کے نام پر استعمال شدہ کیمیکلز زیادہ حرارت پر فارملڈیہائیڈ جیسے عناصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ نوجوان دماغی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں، اور نکوٹین یادداشت، توجہ اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، جس سے تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
منہ اور دانتوں کے لیے بھی یہ نقصان دہ ہے۔ مسلسل استعمال سے منہ خشک رہتا ہے، دانت کمزور ہو جاتے ہیں، مسوڑھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور سانس کی بدبو مستقل مسئلہ بن جاتی ہے۔ جلد کی رنگت متاثر ہوتی ہے اور قبل از وقت بڑھاپا ظاہر ہو سکتا ہے۔
الیکٹرک سگریٹ کے پھٹنے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، خاص طور پر غیر معیاری آلات سے ہاتھ، چہرہ اور جسم کے دیگر حصے جھلسنے کے حادثات ہوتے ہیں۔ یہ آلہ محض صحت ہی نہیں بلکہ جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نوجوانوں اور غیر سگریٹ نوش افراد کو الیکٹرک سگریٹ سے دور رہنے کی سخت ہدایت دیتا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس کی فروخت اور تشہیر پر پابندیاں عائد ہیں، مگر ہمارے ہاں قانون سازی اور آگاہی کا کوئی مربوط نظام موجود نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ الیکٹرک سگریٹ ایک جدید فریب ہے، جو نوجوان نسل کو صحت کی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ حکومت، والدین، تعلیمی ادارے اور میڈیا مل کر مؤثر آگاہی پھیلائیں تاکہ یہ خاموش خطرہ نوجوانوں کی زندگیوں کو متاثر نہ کرے۔ صحت کوئی فیشن نہیں اور زندگی کسی تجربے کا میدان نہیں۔

