ایبٹ آباد میں ایک بڑے مالی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں جعلی کمپنیوں اور چیک کے ذریعے سرکاری خزانے سے 5 کروڑ روپے سے زائد رقم نکالی گئی۔ واقعے کی چھان بین کے دوران معلوم ہوا کہ اس اسکینڈل میں بینک عملہ اور اکاؤنٹ آفس کے اہلکار بھی ملوث ہیں۔
محکمہ سی این ڈبلیو نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسکینڈل میں شامل مزید 3 کروڑ روپے کی منتقلی کو روک دیا، جس سے بڑے نقصان سے بچا جا سکا۔ سی این ڈبلیو حکام نے متعلقہ بینکوں اور اکاؤنٹس آفس سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ اسکینڈل کی تمام تفصیلات سامنے آئیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزائیں دی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق، جعلی چیک اسکینڈل میں متعدد افسران نے جعلسازی اور سرکاری فنڈز کی غیر قانونی منتقلی میں حصہ لیا۔ اس سلسلے میں محکمہ سی این ڈبلیو نے تحقیقات کے لیے مراسلہ جاری کر دیا ہے اور معاملے کی مکمل انکوائری کی جا رہی ہے۔