فلک جاوید کے وکیل نے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی جانب سے ٹرائل کے اختتام پر گواہی ریکارڈ کرانے کی درخواست کی مخالفت کر دی ہے۔
لاہور کی مقامی عدالت نے عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے مقدمے میں صوبائی وزیر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ذاتی حیثیت میں کل طلب کر لیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 21 جنوری کو عظمیٰ بخاری عدالت میں پیش ہوں۔ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم پیشی کی صورت میں وارنٹ یا دیگر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ اس مقدمے کا ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے، اس لیے ٹرائل کے اختتام پر گواہی ریکارڈ کرانے کی درخواست مسترد کی جاتی ہے اور مدعیہ کو آئندہ سماعت پر ہر صورت پیشی یقینی بنانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ عظمیٰ بخاری کی مدعیت میں فلک جاوید اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے۔
فلک جاوید کے وکیل کی صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی گواہی ریکارڈ کرنے کی مخالفت
