کراچی اور لاہور میں حالیہ ہفتوں کے دوران آتشزدگی کے واقعات نے بڑے شہروں میں فائر سیفٹی کے نظام، ریاستی نگرانی اور کمرشل عمارتوں کی حفاظتی تیاریوں پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
بلند و بالا پلازے، گنجان مارکیٹیں اور تجارتی مراکز جہاں ہزاروں افراد کام کرتے ہیں، وہاں معمولی غفلت بڑے سانحات کا سبب بن رہی ہے۔ کراچی کے صدر کے علاقے میں گل پلازہ شاپنگ مال میں 17 جنوری کو لگنے والی آگ اس کا تازہ ثبوت ہے، جس میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ کئی روز گزرنے کے باوجود آگ کی حتمی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔
گل پلازہ کے واقعے کے بعد سندھ حکومت نے صوبے بھر کی سرکاری، نجی اور کمرشل عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کی ہدایت کی ہے، اور ابتدائی طور پر 2,368 عمارتوں کا معائنہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے حکم دیا ہے کہ منظور شدہ بیسمنٹ اور میزانائن فلور صرف پارکنگ کے لیے استعمال ہوں، اور اس فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کراچی اور لاہور میں آتشزدگی کے واقعات نے فائر سیفٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے
