Baaghi TV

محبت سے عدالت تک،تحریر:صدف ابرار

کبھی گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ محبت، اعتماد، تحفظ اور وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں زندگی کی تلخیاں بانٹی جاتی تھیں اور خوشیاں کئی گنا بڑھ جاتی تھیں۔ مگر آج اسی گھر کی دیواریں تو قائم ہیں، لیکن ان کے اندر بسنے والے رشتے پہلے کی نسبت کہیں زیادہ نازک اور غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔

اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں دائر ہونے والے ہزاروں طلاق، خلع اور نان نفقہ کے مقدمات محض قانونی کارروائیاں نہیں، بلکہ ایسے رشتوں کی خاموش داستانیں ہیں جو کبھی محبت، اعتماد اور مشترکہ خوابوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے۔ 2026 کے ابتدائی مہینوں میں 45 ہزار سے زائد فیملی مقدمات کا عدالتوں تک پہنچ جانا ایک ایسا اشارہ ہے جسے صرف اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہر فائل کے پیچھے ایک الگ دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں ایک عورت برسوں کی خاموش اذیت کے بعد انصاف کی تلاش میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے، کہیں ایک مرد ناکام ازدواجی زندگی کے بوجھ تلے دب کر کسی حل کی امید لیے کھڑا ہوتا ہے، اور کہیں معصوم بچے ایسے فیصلوں کے اثرات سمیٹ رہے ہوتے ہیں جن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ عدالت کے ریکارڈ میں یہ صرف ایک مقدمہ ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ کئی زندگیوں کی کہانی ہوتی ہے۔

یہ سوچنا آسان ہے کہ طلاقوں میں اضافہ صرف معاشی مشکلات یا سوشل میڈیا کا نتیجہ ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ معاشی دباؤ یقیناً ایک اہم وجہ ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ برداشت کی کمی، بڑھتی ہوئی انا، غیر حقیقی توقعات، ذہنی دباؤ، جذباتی فاصلے اور مؤثر مکالمے کا فقدان بھی رشتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے سے زیادہ بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور جب یہ کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو رشتے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات رشتے اچانک نہیں ٹوٹتے۔ ان کے درمیان دراڑیں بہت پہلے پڑ چکی ہوتی ہیں۔ ایک نہ سنی جانے والی بات، ایک ادھورا احساس، ایک ٹوٹا ہوا وعدہ اور ایک غیر محسوس بے اعتنائی وقت کے ساتھ اتنی بڑی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ دو لوگ، جو کبھی ایک دوسرے کی دنیا ہوا کرتے تھے، اجنبی بن جاتے ہیں۔ عدالت میں جمع ہونے والی درخواست دراصل اس طویل سفر کا آخری مرحلہ ہوتی ہے۔

ان مقدمات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اکثر بچے ہوتے ہیں۔ وہ بچے جو والدین کے اختلافات کو سمجھنے کی عمر نہیں رکھتے، مگر ان کے اثرات زندگی بھر اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ٹوٹتے ہوئے خاندان صرف دو افراد کو الگ نہیں کرتے، بلکہ بعض اوقات ایک پوری نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مستقبل کو متاثر کر دیتے ہیں۔

اسلام آباد کی عدالتوں میں جمع ہونے والی یہ فائلیں دراصل ہمارے معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات اور معاشی اشاریوں کا نام نہیں۔ ایک معاشرے کی اصل طاقت اس کے مضبوط خاندان، صحت مند تعلقات اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
اگر ہم اس بڑھتے ہوئے رجحان کو صرف عدالتی اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے تو شاید ہم اصل مسئلے کو کبھی سمجھ ہی نہ سکیں۔ کیونکہ یہ صرف طلاقوں میں اضافے کی کہانی نہیں، بلکہ ان انسانی رشتوں کی داستان ہے جو کہیں راستے میں کمزور پڑ گئے۔ سوال یہ نہیں کہ عدالتوں میں کتنے مقدمات دائر ہو رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے گھروں کے اندر ایسا کیا بدل رہا ہے جو محبت کو فاصلے میں، گفتگو کو خاموشی میں اور ساتھ کو علیحدگی میں تبدیل کر رہا ہے۔

شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اعداد و شمار گننے کے بجائے ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ان اعداد و شمار کو جنم دے رہی ہیں۔ کیونکہ جب خاندان کمزور ہوتے ہیں تو اس کی قیمت صرف میاں بیوی نہیں، پورا معاشرہ ادا کرتا ہے۔

More posts