گوجرخان ایک تاریخی اور اہم شہر ہونے کے باوجود، اس وقت متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ شہریوں کو روزمرہ زندگی میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیا گوجرخان پنجاب پاکستان کے نقشے پر موجود نہیں؟ کیا یہاں کے بسنے والے انسان نہیں بلکہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں؟ یہ وہ تلخ سوالات ہیں جو آج گوجرخان کے گلی کوچوں میں گشت کر رہے ہیں۔ ایک طرف متعلقہ محکموں کی مجرمانہ خاموشی ہے اور دوسری طرف مافیاز کا وہ راج، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ آج 2026 میں بھی گوجرخان کے باسی ان بنیادی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری تھی۔ تحصیل گوجرخان گیس کی سرزمین ہے مگر مکینوں کیساتھ زیرو پریشر کا مذاق جاری ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل پکار پکار کر کہتا ہے کہ جس زمین سے گیس نکلے گی، پہلا حق وہاں کے مکینوں کا ہو گا۔ مگر افسوس! تحصیل گوجرخان کی گیس دیگر بڑے شہروں کے چولہے تو جلا رہی ہے، لیکن یہاں کے مقامی باسیوں کے اپنے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اہلیان گوجرخان گیس کی لوڈشیڈنگ اور زیرو پریشر کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ کیا محکمہ سوئی گیس کے حکام کو عوامی چیخیں سنائی نہیں دیتیں؟ یا پھر قانون کی کتابیں صرف لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے ہیں؟ دوسرا سب سے بڑا مسلہ سفید زہر کا کاروبار اور فوڈ اتھارٹی کی نیم خوابی کی بدولت گوجرخان کی سڑکوں پر نیلی سفید پلاسٹک کی ڈرمیوں اور ٹینکرز میں جو سفید مائع دوڑ رہا ہے، وہ دودھ نہیں بلکہ "سفید زہر” ہے۔ کیمیکل ملا یہ زہریلا دودھ نسلوں کو اپاہج بنا رہا ہے، مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی شاید کسی بڑے حادثے کے انتظار میں ہے۔ صرف یہی نہیں، شہر کے نام نہاد فاسٹ فوڈ پوائنٹس پر وہ گھٹیا اور جلا ہوا آئل استعمال ہو رہا ہے جو جگر کو چھلنی اور ہیپاٹائٹس کو عام کر رہا ہے۔ یہاں انسانی جانوں کی قیمت ایک برگر اور شوارمے سے بھی کم ہو چکی ہے۔ تیسرا بڑا بنیادی مسلہ سرکاری پانی کا بحران بھاری بھرکم بلز کی ادائیگی کے باوجود پیاسا ہے گوجرخان۔ واٹر سپلائی کا نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ شہری بوند بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن واٹر مینجمنٹ کے دفاتر میں بیٹھے افسران کی "بند مٹھیاں” کھلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ چوتھا اور سنگین مسلہ صحت کا شعبہ جہاں مسیحائی کے روپ میں قصائی بیٹھے ہیں۔ سب سے بڑا المیہ تو محکمہ صحت کی ناک تلے ہو رہا ہے۔ اسے ڈرگ انسپکٹر کی مبینہ ملی بھگت کہیے یا غفلت، میڈیکل اسٹورز پر ٹھیکے کی غیر معیاری ادویات سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ عطائی ڈاکٹرز، جو انسانی زندگی سے کھیلنا اپنا حق سمجھتے ہیں، گوجرخان کی گلی محلوں میں کلینکس سجا کر بیٹھے ہیں جہاں ایس او پیز کا نام و نشان تک نہیں۔ رہی سہی کسر نجی لیبز اور کلینکس کے ناتجربہ کار عملہ نکال کر شعبہ صحت کو چار چاند لگا رہا ہے۔ کیا تحصیل گوجرخان لاوارث تحصیل ہے؟ آخر اسکی کیا وجہ جو گوجرخان کو مسائل کی آماجگاہ بنا دیا گیا ہے؟ متعلقہ ادارے کیا کر رہے ہیں کس کام کی تنخواہ لے رہے کیا سب اچھا کی رپورٹس پیش کرنے کی تنخواہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے دی جاتی ہے؟ اگر کوئی خبر لگے تو ہلچل مچتی ہے، انکوائری انکوائری کا کھیل کھیلا جاتا ہے مگر مافیاز کو ہاتھ نہیں ڈالا جاتا آخر اس سب کے پیچھے کونسی پوشیدہ طاقتیں ہیں جو اتنے مسائل کے باوجود بھی ادارے اپنا کام کرنے کے بجائے اپاہج ہو چکے؟
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف جو اس وقت شبانہ روز محنت سے اپنے صوبے کے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں ان سے پرزور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان تمام تر مسائل کا سختی سے نوٹس لیں اور تمام متعلقہ اداروں کے نااہل افسران کو فوری طور پر ضلع بدر کیا جائے، مزید برآں راولپنڈی انتظامیہ کو احکامات جاری کریں کہ کمشنر راولپنڈی اور دیگر حکام فوری طور پر ان مافیاز کے خلاف "گرینڈ آپریشن” کریں۔ زہریلا دودھ بیچنے والوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے اور عطائیوں کے ٹھکانوں کو ہمیشہ کے لیے سیل کیا جائے اور غیر معیاری ادویات کو فوری بند کروایا جائے۔ جبکہ وفاق گیس کے پریشر کو بحال کروانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔
