جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اور رہنما اسلم غوری نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانسٹی ٹیوشن ون بلڈنگ پر وزیر اعظم کی جانب سے قائم انکوائری کمیٹی معاشرے میں طبقاتی تقسیم کا واضح ثبوت ہے۔
اپنے ایک بیان میں اسلم غوری کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد صرف اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ بن کر رہ گیا ہے، جبکہ عام اور غریب طبقہ مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مسجد و مدرسہ کو مسمار کرنا یا غریب بستیوں کو اجاڑنا حکمرانوں کا معمول بنتا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ترجمان جے یو آئی نے گزشتہ برس مدنی مسجد کی شہادت اور حالیہ دنوں میں بری امام اور سید پور گاؤں کے خلاف کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات غریب اور مذہبی طبقے کے خلاف امتیازی سلوک کی عکاسی کرتے ہیں۔اسلم غوری نے مزید کہا کہ ملک میں دوہرے معیار قائم ہو چکے ہیں، جہاں غریب اگر کوئی جرم کرے تو اسے سخت سزا دی جاتی ہے، جبکہ اشرافیہ کے لیے باعزت بریت کی راہیں ہموار کی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر قسم کی مراعات صرف اشرافیہ تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جس سے عام آدمی خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ حکمرانوں کے یہ متضاد رویے جمہوریت، پارلیمنٹ، سیاست اور انتخابات پر عوام کے اعتماد کو متزلزل کر رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔آخر میں ترجمان جے یو آئی نے مطالبہ کیا کہ حکمران فوری طور پر دوہرے معیار کا خاتمہ کریں اور فیصلوں میں اخلاقی اقدار اور مشرقی روایات کو مدنظر رکھیں، بصورت دیگر طبقاتی تفریق ملک میں مزید انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔
