Baaghi TV

غیر ضروری اور لاحاصل مباحث فکری زوال کا سبب،تجزیہ:شہزاد قریشی

shehad qureshi

یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک طرف دنیا تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے اور دوسری طرف ہم آج بھی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور سوشل میڈیا پر غیر ضروری اور لاحاصل مباحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایک ایسی رسم، جسے کبھی بسنت اور کبھی روایت کا نام دے دیا جاتا ہے، اس پر گھنٹوں کی بحث قوم کی ترجیحات پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نوعیت کے مباحث پہلے بھی ہمارے فکری زوال کا سبب بنے،کبھی “کوا حلال ہے یا حرام” جیسے موضوعات نے ذہنوں کو الجھائے رکھا، اور آج وہی روش نئے عنوانات کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شوق درست ہے یا غلط، اصل سوال یہ ہے کہ قومیں کیسے ترقی کرتی ہیں؟ کیا دنیا پتنگیں اڑا کر آگے بڑھی ہے، یا تعلیم، تحقیق، صنعت اور مضبوط معیشت کے ذریعے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ جس ملک میں آج بھی عوام بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری، کمزور تعلیمی نظام اور ناقص صحت کی سہولیات جیسے بنیادی مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، وہاں قومی مکالمہ اصل مسائل کے بجائے غیر سنجیدہ موضوعات کے گرد گھوم رہا ہو۔

میڈیا کا کردار قوم کی رہنمائی اور شعور کی بیداری ہے، مگر جب توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے تو عوامی سوچ بھی منتشر ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وقت اور توجہ قیمتی قومی سرمایہ ہیں۔ اگر یہ سرمایہ غیر ضروری بحثوں میں ضائع ہوتا رہا تو نقصان صرف آج کا نہیں، آنے والی نسلوں کا بھی ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اپنے حقیقی مسائل پر توجہ دیں، درست ترجیحات طے کریں اور قومی بیانیے کو ترقی، اصلاحات اور عوامی فلاح کی سمت موڑیں۔ بصورت دیگر افسوس کے سوا ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچے گا۔

More posts