Baaghi TV

غربت کیا ہے،غربت کیوں ہوتی ہے؟تحریر: مبراء عبدالقیوم

بعض لفظ روز مرہ کا حصہ اس طرح بن جاتے ہیں کہ ہم اُن کی گہرائی کا احساس تک کھو دیتے ہیں۔ غربت بھی انہی لفظوں میں سے ایک لفظ ہے۔ ہم اسے صرف خالی جیب، خالی برتن، یا پھٹے ہوئے کپڑوں میں تلاش کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ غربت محض روپے پیسے کی کمی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک سوچ ہےاور ایک معاشرتی ڈھانچے کی ناکامی ہے۔ غربت اُس وقت پیدا نہیں ہوتی جب کسی کے پاس پیسے کم ہوں، بلکہ اس لمحے جنم لیتی ہے جب کسی معاشرے میں انصاف کم ہو جاتا ہے۔

میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے پاس صرف دو وقت کی روٹی تھی، مگر ان کے چہرے پر کبھی محرومی کی لکیر تک نہیں دکھائی دی۔ اور ایسے بھی دیکھے ہیں جن کے بینک بیلنس بھاری، مگر دل چھوٹے تھے۔ اس لیے مجھے ہمیشہ یہی لگا ہےکہ غربت کا اصل تعلق جیب سے پہلے دل اور سوچ سے ہوتا ہے۔ جس دل میں اللہ کا شکر، رزق کی قدر اور محنت کا یقین ہو، وہاں غربت رہ نہیں سکتی۔ لیکن جس معاشرے میں انسان کا حق دبا دیا جائے، وسائل چند ہاتھوں میں قید ہو جائیں، اور محنت کرنے والا اپنی محنت کا پھل نہ پا سکے،وہاں غربت پورا نظام بن کر پھیل جاتی ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غربت صرف روزی روٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی اور اجتماعی بیماری بھی ہے۔ اس کی سب سے پہلی جڑ تقسیم میں ناانصافی ہے۔ جب وسائل چند خاندانوں کے پاس ہوں، جب تعلیم صرف امیروں کا زیور بن جائے، جب اچھے ہسپتال صرف طاقتوروں کو میسر ہوں اور جب کمزور کا حق صرف سفارش کی میز پر ہی طے ہوتو پھر غربت محض اتفاق نہیں رہتی، مقدر بن جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں لوگ غریب پیدا نہیں ہوتے، اُنہیں غریب بنا دیا جاتا ہے۔

دوسری بڑی وجہ تعلیم کا بحران ہے۔ ایک بچہ اگر اچھے اسکول تک نہ پہنچ سکے، اس کے پاس مہارت نہ ہو، اس کے سامنے مواقع نہ ہوں، تو وہ بجائے ترقی کے، غربت کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ علم وہ چراغ ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکالتا ہے، مگر جب معاشرہ یہ چراغ چند گھروں تک محدود کر دے تو باقی لوگ ہمیشہ اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔

تیسری وجہ بے روزگاری اور غیر منصفانہ روزگار کا نظام ہے۔ نوکریاں سفارش کی بنیاد پر ملتی ہیں، نوجوان ڈگریاں لیے سڑکوں پر گھومتے ہیں، اور محنت کا معاوضہ محض زندہ رہنے کے لائق ہوتا ہے۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ جب تک مزدور کی مزدوری عزت کے ساتھ نہ دی جاۓ، جب تک نوجوان کو ان کے ہنر کے مطابق سہارا نہ دیا جائے، تب تک غربت کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔
چوتھی وجہ آبادی کا بڑھنا بھی ہے۔ وسائل محدود ہیں مگر ضرورتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہمارے ہاں منصوبہ بندی کم ہے اور ہماری امیدیں زیادہ ہیں۔ جب خاندان وسائل کے بغیر پھیلتے جاتے ہیں تو ان کے بچوں کے خواب بھی چھوٹے ہوتے جاتے ہیں، پھر نسل در نسل غربت منتقل ہوتی رہتی ہے۔

پانچویں اور سب سے اہم وجہ سوچ کی غربت ہے۔ کئی گھروں میں غربت اس لیے نہیں ہوتی کہ اللہ نے رزق کم دیا ہے، بلکہ اس لیے کہ ہم میں سے کچھ لوگ رزق کو اپنامقدر سمجھ کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جاتے ہیں اور رزق کی تلاش میں کوئی کوشش نہیں کرتے۔اور پھر خود اعتمادی کھو دیتے ہیں اور دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہمارے اندر کی غربت باہر کی غربت سے بھی زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ اصل غربت وہ ہے جو انسان کے حوصلے پست کر دے، اس کے یقین کو کم کر دے اور کوشش کی روشنی کو بجھا دے۔

ان تمام وجوہات کے باوجود ایک حقیقت سب سے بڑھ کر دکھ دیتی ہے۔ غربت اکثر غریب کی نہیں، معاشرے کی بے حسی کی ہوتی ہے۔ جب ہم کسی بھوکے کو نظرانداز کر کے گزر جاتے ہیں، جب ہم ایک مجبور ماں کے ہاتھ کانپتے دیکھتے ہیں مگر آنکھیں پھیر لیتے ہیں، جب ہم روز سڑک پر کسی مزدور کی تھکن محسوس کرتے ہیں، مگر اس کی مزدوری کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں—تو ہم خود غربت کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ غریب وہ نہیں جس کے پاس کھانے کو کم ہے، غریب وہ ہے جس کے ساتھ معاشرہ کھڑا نہیں ہوتا۔
غربت تب کم ہوگی جب معاشرے کا ہر شخص اپنا کردار پہچانے گا۔ حکومت کے کرنے کے کام اپنی جگہ، مگر ہر فرد کی ذمہ داری اس سے زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں فضول خرچیاں کم کر دیں، اگر ہم کسی ایک خاندان کی تعلیم کا ذمہ لے لیں، اگر ہم اپنے ملازم کے بچے کو ایک کتاب خرید دیں، اگر ہم کسی یتیم کے لیے اسکول کی فیس جمع کروا دیں، تو شاید ہم ایک نسل بدل سکتے ہیں۔ اور جب ایک نسل بدلتی ہے، تو اس کے ساتھ پورا معاشرہ بدل جاتا ہے۔
آخر میں۔۔۔میں صرف اتنی سی بات کہنا چاہتی ہوں کہ غربت کبھی انسان کو نہیں ہراتی، انسان کی بے حسی اسے بڑھاتی ہے۔ غربت تب ختم ہوتی ہے جب ہم سب اپنے رویّے بدلتے ہیں، انصاف قائم کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

More posts