Baaghi TV

گوجرخان ترقی کی شاہراہ پر بکھرتا ایک خواب،تحریر : قمرشہزاد مغل

مصلحت کوش مفسر! مری جرات تو دیکھ
جس کو سب کہتے ہیں اندھیر، اسے رات تو دیکھ
شہر در شہر بکھرتی ہوئی اس خلقِ خدا
کی تباہی میں ذرا اپنے بھی حالات تو دیکھ

کہنے کو تو گوجرخان پوٹھوہار کا دل ہے، لیکن آج یہ دل حکومتی بے حسی، انتظامی نااہلی اور سیاسی یتیمی کے باعث سسک رہا ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع یہ اہم ترین تحصیل، جو لاکھوں کی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، آج اپنے بنیادی حقوق کے لیے پکار رہی ہے۔ کیا یہ وہی پاکستان ہے جسے ہم 2026 میں ایک جدید ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے؟ تحصیل گوجرخان کی آٹھ سے دس لاکھ کی آبادی کے لیے ایک مکمل ہسپتال تک موجود نہیں۔ گوجرخان کے وسط سے گزرنے والی جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بے ہنگم اژدھام اب صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع بن چکا ہے۔ فلائی اوور کی عدم موجودگی کسی المیہ سے کم نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہروں کے بیچ سے گزرنے والی شاہراہوں پر سگنل فری کوریڈورز اور فلائی اوورز دہائیوں پہلے بنائے جا چکے ہیں، مگر یہاں کی عوامی ضرورت کو فائلوں کی نذر کر دیا گیا ہے۔ کیا حکمران کسی بڑے حادثے کے منتظر ہیں؟ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی حالتِ زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے لب پر واقع اس ہسپتال میں، جہاں ہر لمحہ حادثات کا خدشہ رہتا ہے، ایک نیورو سرجن تک میسر نہیں۔ ہیڈ انجری کا مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑتا ہوا پونے گھنٹے کی مسافت طے کر کے راولپنڈی جانے پر مجبور ہے، اور اکثر یہ سفر آخری سفر ثابت ہوتا ہے۔ شعبہ صحت کا منہ چڑاتی یہ حقیقت کہ ایکسرے ڈیپارٹمنٹ کلاس فور ملازمین کے رحم و کرم پر ہے جبکہ دو بجے کے بعد ایکسرے ڈیپارٹمنٹ عموما بند ملتا ہے جو صحت کے نظام پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

مزید برآں یہاں کے باسیوں کا خون اتنا سستا ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات میسر نہیں محض چار لیب ٹیکنیشنز پر بلڈ بینک اور لیبارٹری کا چوبیس گھنٹے بوجھ ڈالنا انسانیت سوز رویہ ہے۔ جو او پی ڈی کے علاوہ لیبر روم، آپریشن تھیٹر سمیت دیگر ٹیسٹ 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔جدید دور میں جہاں دنیا سمندر کے پانی کو میٹھا بنا کر گھر گھر پہنچا رہی ہے، گوجرخان کے شہری بھاری بھرکم بل بھرنے کے باوجود پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ سرکاری پانی کی سپلائی کا کئی کئی روز غائب رہنا انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت ہے۔ پانی زندگی ہے، اور گوجرخان کے عوام سے یہ زندگی چھینی جا رہی ہے۔

تحصیل گوجرخان میں ہنرمند نوجوانوں کی فوج موجود ہے، لیکن حکومتی سطح پر صنعتی فروغ نہ ہونے کی وجہ سے بیروزگاری کا جن بے قابو ہو چکا ہے۔ یہاں صنعتی زونز کا قیام وقت کی ضرورت ہے تاکہ مقامی لوگوں کو روزگار ملے۔ جب تک یہاں بڑے صنعتی پلانٹس نہیں لگیں گے، یہاں کی معیشت وینٹی لیٹر پر ہی رہے گی۔ آراضی ریکارڈ سینٹر کی حالتِ زار یہ ہے کہ عوام اپنے ہی حق کے لیے سارا دن ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ متعدد کاؤنٹرز خالی پڑے ہیں اور ایک دو اہلکار کچھوے کی چال سے کام کر رہے ہیں۔ کیا ڈیجیٹل پاکستان کا خواب یہی ہے؟ اہلیان گوجرخان مطالبہ کرتے ہیں کہ گوجرخان جی ٹی روڈ پر فوری طور پر فلائی اوور کی تعمیر شروع کی جائے۔ ہسپتال میں نیورو سرجن، ایکسرے ٹیکنیشنز اور لیب عملے کی کمی فوری پوری کی جائے۔ پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئے منصوبے شروع کیے جائیں۔ گوجرخان کو صنعتی زون قرار دے کر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی جائے۔

بقول شاعر
اب بھی وقت ہے بدلو اپنا چلن ورنہ
تاریخ کی زد میں آؤ گے تو مٹ جاؤ گے
نہ تمہاری داستاں ہوگی نہ تمہارا نام ہوگا
جب حق کے متلاشی سرعام نکل آئیں گے

More posts