Baaghi TV


سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ میں زمین کی ملکیت اور لیز کے حوالے سے اہم انکشافات

‎سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی ہے، جس میں انکشاف کیا گیا کہ شاپنگ سینٹر کی زمین اصل میں کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کی ملکیت تھی۔
‎رپورٹ کے مطابق 1883 میں زمین ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی۔ بعد میں، فاروق ستار کی میئرشپ کے دوران یہ زمین جنیکا کمپنی کو لیز پر دی گئی، جبکہ لیز کے اختتام سے ایک ماہ قبل زمین جنیکا نامی گروپ نے خرید لی۔
‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کی لیز ختم ہونے کے باوجود عمارت کی تعمیرات جاری رہیں۔ کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کے لیے 3 نومبر 1991 کو دی گئی، جس پر ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں، اور یہ زمین 3 روپے فی گز کرائے پر لیز کی گئی تھی۔
‎مزید کہا گیا ہے کہ 2003 میں اضافی فلور کی تعمیر کو ریگولرائز کیا گیا، جب جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان میئر تھے، جبکہ 1990 تک تعمیرات جاری رہیں اور جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی نے انہیں روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

More posts