Baaghi TV

گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
کراچی کے گُل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا المناک واقعہ محض ایک اور “حادثہ” قرار دے کر فائلوں میں دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ کسی اچانک اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط ریاستی غفلت، مجرمانہ لاپرواہی اور کمزور عملداری کا کھلا ثبوت ہے۔ اگر اسے محض حادثہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو یہ ناانصافی صرف متاثرین ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی ہوگی۔

یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کیوں پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں واقع کمرشل پلازے آگ لگنے کی صورت میں موت کے پھندے بن جاتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہر سانحے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر چند ہفتوں بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے؟

ہمارے ہاں کمرشل عمارتیں تعمیر کرتے وقت سرمایہ کار، بلڈر اور نقشہ پاس کرنے والے ادارے تو پوری طرح متحرک ہوتے ہیں، مگر جب بات فائر سیفٹی کی آتی ہے تو سب کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے۔ ناقص اور پرانی الیکٹریکل وائرنگ، اوورلوڈنگ، غیر معیاری تاریں اور غیر تربیت یافتہ الیکٹریشنز معمول بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو یہ سب نظر نہیں آتا، یا سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی دانستہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ اگر فائر سیفٹی قوانین پر واقعی عمل درآمد ہوتا تو گُل پلازہ جیسے سانحات شاید جنم ہی نہ لیتے۔

زیادہ تر کمرشل عمارتوں میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور اسپرنکلر سسٹم یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے یا صرف نقشوں اور فائلوں تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کہیں نصب بھی ہوں تو ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی، بیٹریاں ختم، سسٹم خراب اور الارم خاموش رہتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کئی پلازہ مالکان فائر سیفٹی آلات کو غیر ضروری خرچ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی آلات قیمتی انسانی جانوں کے محافظ ہوتے ہیں، اور متعلقہ ادارے اس مجرمانہ غفلت پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

گُل پلازہ جیسے سانحات میں سب سے تشویشناک پہلو ایمرجنسی ایگزٹس کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ کئی عمارتوں میں یہ راستے یا تو تالہ بند ہوتے ہیں یا اضافی سامان سے بھرے ہوتے ہیں۔ واضح نشانات کی عدم موجودگی میں ایمرجنسی کے وقت لوگ گھبراہٹ میں غلط سمتوں میں بھاگتے ہیں اور یہی گھبراہٹ جان لیوا ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ عمارتوں کی منظوری دیتے وقت ایمرجنسی راستوں کا عملی معائنہ کیا جاتا ہے یا صرف کاغذی نقشوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ دکانداروں اور عملے کو فائر سیفٹی سے متعلق بنیادی تربیت تک نہیں دی جاتی۔ فائر ایکسٹینگشر کی موجودگی اس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب استعمال کا طریقہ ہی معلوم نہ ہو۔ نہ فائر ڈرل ہوتی ہے، نہ عملی مشق، نہ آگاہی، پھر بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ بحران کے وقت سب کچھ خودبخود درست ہو جائے گا۔

ضلعی انتظامیہ اور فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہونے والے معائنے اکثر محض رسمی کارروائی ثابت ہوتے ہیں۔ فائلوں میں “اطمینان بخش” رپورٹ درج ہو جاتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان انسپکشنز کا مقصد جان بچانا ہے یا صرف کاغذی ذمہ داری پوری کرنا؟

ہر بڑے سانحے کے بعد وہی پرانا ڈرامہ دہرایا جاتا ہے۔ میڈیا شور مچاتا ہے، سیاست دان مذمتی بیانات دیتے ہیں، اعلانات ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ نہ کسی افسر کو سزا ملتی ہے، نہ کسی بلڈر کا احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں کوئی بنیادی اصلاح کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سانحات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔

اب سوالات مزید نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کیا انسانی جانوں کا تحفظ واقعی ہماری ریاست کی ترجیح ہے؟ فائر سیفٹی قوانین پر عمل نہ کرانے والوں کا احتساب کب ہوگا؟ غیر معیاری تعمیرات کی اجازت دینے والے افسران کب قانون کے کٹہرے میں آئیں گے؟ اور کب تک ہم ایسے سانحات کو “قدرتی آفت” قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوتے رہیں گے؟

حل کوئی انوکھے نہیں۔ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کو حقیقی معنوں میں لازمی بنانا ہوگا، ناقص عمارتوں کو سیل کرنا ہوگا، بلڈر مافیا کو لگام دینا ہوگی اور انسپکشن کے نظام کو محض رسمی نہیں بلکہ مؤثر اور عملی بنانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر، انسانی جان کو کاروبار اور منافع سے بالاتر سمجھنا ہوگا۔

ہم برسوں سے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چل رہے ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد اس کی قیمت اپنی جانوں سے چکا رہے ہیں۔ گُل پلازہ کا سانحہ ہمیں آئینہ دکھا گیا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے کو توڑ دیتے ہیں یا اپنے چہرے کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر آج بھی سنجیدہ اور سخت فیصلے نہ کیے گئے تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور مارکیٹ اور کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔
یہ صرف تنقید نہیں، ایک انتباہ ہے…………..آخر کب تک؟

More posts