Baaghi TV

ہاتھوں میں دعا آنکھوں میں عمر بھر کا بوجھ،تحریر: آمنہ خواجہ

یہ تصویر کسی ایک انسان کی نہیں ایک پوری نسل کی کہانی سناتی ہے۔ جھکی ہوئی پیشانی آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ اور سامنے پھیلی ہوئی ہتھیلیاں جیسے زندگی نے بہت کچھ کہہ دیا ہو اور اب الفاظ ختم ہو گئے ہوں۔
یہ وہ ہاتھ ہیں جنہوں نے کبھی بچوں کو تھام کر چلنا سکھایا کبھی مزدوری کی سختی جھیلی کبھی خالی جیب کے ساتھ بھی گھر کی دہلیز پر مسکراہٹ رکھ دی۔ مگر آج یہی ہاتھ سوال بن گئے ہیں۔ سوال لوگوں سے نہیں وقت سے تقدیر سے، اور شاید اپنے ہی دل سے۔
چہرے کی جھریاں صرف عمر کی نشانیاں نہیں ہوتیں یہ ان راتوں کا حساب بھی ہوتی ہیں جو فکر میں کٹ گئیں ان دنوں کی گنتی بھی جن میں اپنی خواہشیں بچوں کی ضرورتوں پر قربان ہو گئیں یہ آنکھیں اگر بند ہیں تو نیند کے لیے نہیں شاید اس لیے کہ آنسو اب دکھائے نہیں جاتے۔

اخبار کے صفحے پر چھپنے والی یہ تصویر ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ ہمارے اردگرد کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو مانگتے نہیں بس خاموشی سے دعا کے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں۔ جن کا دکھ شور نہیں کرتا مگر دل ہلا دیتا ہے۔
یہ تصویر ہم سب سے ایک سوال پوچھتی ہے:
کیا ہم نے ان ہاتھوں کو وقت پر تھاما؟
یا پھر ہم بھی گزر گئے یہ کہہ کر کہ یہ تو کسی اور کی ذمہ داری ہے؟
شاید انسان کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ جھکے ہوئے سروں کو سہارا دے اور ان خاموش دعاؤں کا جواب بن جائے جو لفظوں کے بغیر بھی آسمان تک پہنچ جاتی ہیں۔

More posts