ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں شور بہت ہے، مگر سوچ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ زبانیں متحرک ہیں لیکن ضمیر خاموش، انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں مگر خود احتسابی کا آئینہ گرد آلود پڑا ہے۔ یہ سوال اب محض فلسفیانہ نہیں رہا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ سوال ہماری اجتماعی بقا سے جڑ چکا ہے۔
آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا مگر شعور سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرین پر لمحہ بھر میں رائے قائم کر لی جاتی ہے، بغیر یہ سمجھے کہ ہر سچ آدھا نہیں ہوتا اور ہر جھوٹ مکمل نہیں۔ ہم نے سوچنے کی محنت چھوڑ دی ہے اور مان لینے کو عقل مندی سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں زوال کی پہلی سیڑھی اترتی ہیں۔
ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم مسائل کا شکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ مہنگائی، ناانصافی، تعصب، بے روزگاری،یہ سب اب خبروں کا حصہ نہیں بلکہ معمول کی گفتگو بن چکے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ ظلم پر چونکنا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے کہ وہاں ظلم مضبوط ہو چکا ہے۔ہم اکثر قیادت کو کوستے ہیں، نظام کو گالیاں دیتے ہیں، مگر یہ سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں کہ کیا ہم خود اس نظام کا حصہ نہیں؟ ایک رشوت لیتا ہے، دوسرا خاموش رہتا ہے؛ ایک جھوٹ بولتا ہے، دوسرا اسے شیئر کر دیتا ہے۔ یوں برائی اکیلی نہیں رہتی، اسے اجتماعی تحفظ مل جاتا ہے۔
تعلیم کا حال یہ ہے کہ ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں مگر دانش کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے تعلیم کو روزگار کا زینہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ کہ ہنر مند تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر دیانت دار انسان ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں اور کردار نصاب سے نہیں، تربیت سے بنتا ہے۔مذہب، جو ہمیں جوڑنے آیا تھا، ہم نے اسے تقسیم کا ہتھیار بنا لیا۔ ہر فرقہ، ہر گروہ، ہر جماعت خود کو حق کا ٹھیکیدار سمجھنے لگی ہے۔ ہم نے خدا کو بھی اپنی انا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ اصل دینداری تو عاجزی سکھاتی ہے، نفرت نہیں۔
سنجیدہ قلم کار بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔ وہ جنگ جو انسان اپنے ضمیر سے لڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ ہار جائے تو بڑے سے بڑا انقلاب بھی کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ تبدیلی نعروں سے نہیں، نیت سے آتی ہے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اصلاح کا آغاز اوپر سے نہیں، خود سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد سچ بولنے کا حوصلہ کرے، انصاف پر سمجھوتہ نہ کرے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے تو وہی فرد معاشرے میں خاموش انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہے۔ یہ وقت دوسروں کو بدلنے کے خواب دیکھنے کا نہیں، خود کو بدلنے کی جرات کا ہے۔ اگر ہم نے آج سوچنا نہ سیکھا تو کل سوچنے کا حق بھی کھو دیں گے۔
آخر میں سوال وہی ہے:
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ
ہم کہاں کھڑا ہونا چاہتے ہیں؟
فیصلہ ہمیں کرنا ہے،بطور فرد، اور بطور قوم۔
