قانون سب کے لیے ایک سا ہونا چاہیے، مگر حقیقت میں خوف کچھ لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔
مزاحمت کی علامت بننا آسان لگتا ہے، جیسے ایمان مزاری کی شجاعت، مگر جب کٹہرے کا سامنا آتا ہے تو ہچکچاہٹ چھا جاتی ہے۔ مزاحمت کے نعرے بلند کرنے کے ساتھ جینا آسان ہے، لیکن جب انصاف کا تقاضا سامنے آتا ہے، تو حقیقی امتحان شروع ہوتا ہے۔
عدالت کا سامنا کرنا خوفناک لگتا ہے، مگر سرکاری عمارات میں پنا لینا، اپنے موقف کو چھپانا یا سیاسی دباؤ میں آنا سب سے زیادہ عام حقیقت ہے۔ الزام لگانا آسان ہے، لیکن اس الزام کا جواب دینا، حقیقت میں اپنی صفائی پیش کرنا یا قانون کے سامنے کھڑا ہونا سب سے مشکل۔
آج کے دور میں ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر سیاست کرنا، تنقید کرنا، موقف رکھنے اور نعرے لگانا آسان ہوگیا ہے۔ مگر حقیقی زندگی میں سیاست کرنا، عوام کے سامنے جواب دینا، فیصلے کرنا اور ان فیصلوں کی قیمت بھگتنا، وہ سب کچھ آسان نہیں۔ سوشل میڈیا کی جیت فوری ہے، مگر زمین پر سیاست کی قیمت ہمیشہ بھاری۔
یہ تضاد صرف انفرادی مثالوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک عکاسی ہے اس حقیقت کی کہ ہمارے معاشرے میں مزاحمت اور خوف، عمل اور نعرے، بیان اور عمل، سب کے درمیان ایک خلا ہے۔ جہاں بولنا آسان ہے، وہاں کرنا مشکل ہے؛ جہاں الزام لگانا آسان ہے، وہاں اس کا سامنا کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔
مزاحمت کی علامت ایمان مزاری، مگر عدالت کے کٹہرے سے ہچکچاہٹ۔
