Baaghi TV

ختمِ نبوت ﷺ ایمان کی سرخ لکیر،تحریر: فاطمہ زہراء

چودہ صدیاں بیت گئیں زمانے بدل گئے، سلطنتیں آئیں اور مٹ گئیں، تہذیبوں نے کروٹیں لیں، مگر ایک حقیقت ایسی ہے جس پر امتِ مسلمہ کا اجماع اور ایمان آج بھی اسی طرح قائم ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ نہ کوئی تشریعی نبی آسکتا ہے، نہ غیر تشریعی، نہ ظلی اور نہ بروزی۔ نبوت کا وہ دروازہ جو تاجدارِ ختمِ نبوت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بند ہوا، قیامت تک بند ہی رہے گا۔

قرآنِ مجید نے اس حقیقت کو واضح الفاظ میں بیان فرمایا:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ وَلٰـكِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمًا‏ ٤٠
(دیکھو !) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ﷺ ہیں اور سب نبیوں پر مہر ہیں۔ } اور یقینا اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے۔

یعنی محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آخری نبی ہیں کہ اب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بعدکوئی نبی نہیں آئے گا اورنبوت آپ پر ختم ہوگئی ہے اور آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی حتّٰی کہ جب حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نازل ہو ں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پاچکے ہیں مگر نزول کے بعد نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔
ختمِ نبوت ﷺ کوئی معمولی یا عام مذہبی مسئلہ نہیں یہ ہر مسلمان کے ایمان سے جڑا ہوا ایک نہایت حساس اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اس عقیدے پر معمولی سی آنچ بھی اہلِ ایمان کے دلوں میں اضطراب پیدا کر دیتی ہے تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس عقیدے کے تحفظ کے لیے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں یہاں تک کہ کئی جانیں بھی اس راہ میں نچھاور ہوئیں۔
یوں کہیے کہ ختمِ نبوت ﷺ ہر کلمہ گو مسلمان کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔
مسلمان زندگی کے بہت سے معاملات میں اختلاف برداشت کرسکتا ہے اپنے ذاتی مفادات سے دست بردار ہوسکتا ہے مگر اپنے نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت کے عقیدے پر سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔
یہ عقیدہ ہمارے ایمان کی شناخت ہے ہماری محبتِ رسول ﷺ کا حصہ ہے اور ہماری دینی غیرت کا مرکز ہے تاہم اس عقیدے کے تحفظ کا راستہ بھی وہی ہونا چاہیے جو اسلام ہمیں سکھاتا ہے علم، حکمت، دلیل، صبر اور قانون کی پاسداری۔

تحفظ ختم نبوت ایک مذہبی تصور نہیں بلکہ مسلمان کے ایمان کی بنیادوں میں شامل عقیدہ ہے۔ جب نبوت کا دروازہ بند ہوچکا تو کسی فرد، جماعت یا مرزائی قادیانی نظریے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس بند دروازے کو اپنی خواہش تاویل یا دعوے کے ذریعے دوبارہ کھولنے کی کوشش کرے۔
اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی ایک طویل داستان سامنے آتی ہے۔ عہدِ نبوی ﷺ میں پیش آنے والی جنگوں میں شہید ہونے والے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعداد کے بارے میں مختلف تاریخی روایات ملتی ہیں، مگر جنگِ یمامہ کا معرکہ اپنی شدت اور شہادتوں کی کثرت کے اعتبار سے تاریخِ اسلام کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس معرکے میں متعدد جلیل القدر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جامِ شہادت نوش کیا، جن میں بڑی تعداد حفاظِ قرآن کی بھی بیان کی جاتی ہے۔
یمامہ کا معرکہ محض ایک جنگ نہ تھا؛ یہ اس دور کے ان فتنوں کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا جنہوں نے نبوت کے جھوٹے دعووں کے ذریعے مسلمانوں کے عقیدے اور اجتماعی وحدت کو چیلنج کیا تھا۔ مسیلمہ کذاب کے فتنے کے مقابلے میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جس استقامت کا مظاہرہ کیاوہ تاریخِ اسلام میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔

اسی سلسلے میں حضرت حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ نہایت دل سوز اور ایمان افروز ہے۔ انہیں مسیلمہ کذاب کے سامنے لایا گیا اور شدید اذیتیں دی گئیں، مگر ان کے ایمان کی آواز کو خاموش نہ کیا جاسکا۔ جسم پر مصیبتیں نازل ہوتی رہیں لیکن زبان پر رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار قائم رہا۔ ان کی استقامت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ سچا ایمان آزمائش کی شدت سے کمزور نہیں ہوتا۔
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی ان جاں نثاروں میں کیا جاتا ہے جنہوں نے دین کے لیے اپنی جان پیش کی۔ ان کی خواہش تھی کہ شہادت سے پہلے ان کے جسم پر اتنے زخم آئیں کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی قربانی کی گواہی دے سکیں۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ ان کا جسم زخموں سے چور تھا۔
یہ وہ قربانیاں ہیں جنہیں تاریخ محض واقعات کے طور پر محفوظ نہیں کرتی یہ ایمان، وفا اور استقامت کی علامتیں ہیں۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے عمل سے ثابت کیا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی رسالت اور ختمِ نبوت پر ایمان ان کے لیے محض زبان کا اقرار نہیں بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ تھا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت، صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے عہد میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کے فتنوں کا مقابلہ کیا۔ اسود عنسی، طلیحہ اسدی اور مسیلمہ کذاب جیسے مدعیانِ نبوت نے مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اہلِ ایمان نے ان فتنوں کے سامنے مزاحمت کی۔ خلیفۂ اول، امیرالمؤمنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنۂ ارتداد اور مسیلمہ کذاب کے خلاف فیصلہ کن اقدام کیا اور یوں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کی ایک روشن تاریخی مثال قائم ہوئی۔

بعد کے ادوار میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے افراد سامنے آتے رہے جنہوں نے نبوت کے دعوے کیے اور مسلمانوں کے عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن اہلِ علم نے ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان دعووں کا علمی رد کیا اور امت کو گمراہی سے بچانے کی جدوجہد جاری رکھی۔
برصغیر میں جب فرنگی اقتدار قائم ہوا تو مسلمانوں کی سیاسی، معاشی اور دینی حالت شدید متاثر ہوئی۔ آزادی کی جدوجہد میں برصغیر کے مسلمانوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ علما نے اپنے قلم، خطابت اور عملی جدوجہد کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی اور دینی شعور کی روح بیدار رکھی۔
اسی تاریخی ماحول میں قادیان سے مرزا غلام احمد کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس دعوے نے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید مذہبی ردِعمل پیدا کیا۔ علما اور اہلِ علم نے اس دعوے کا علمی محاسبہ کیا اور عقیدۂ ختمِ نبوت کی وضاحت کے لیے کتابیں لکھیں مناظرے کیے اور عوامی سطح پر آگاہی پیدا کی جن میں

حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور دیگر علما نے اس سلسلے میں نمایاں علمی کردار ادا کیا۔ انفرادی علمی کوششیں وقت کے ساتھ اجتماعی جدوجہد میں تبدیل ہوئیں۔ مجلس احرارِ اسلام نے بھی اس مسئلے کو اپنی سیاسی اور عوامی جدوجہد کا اہم حصہ بنایا۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اپنی خطابت اور عوامی بیداری کے حوالے سے اس تحریک میں نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئے۔
1930ء کی دہائی میں قادیان کے حوالے سے تبلیغی سرگرمیوں اور عوامی اجتماعات کا سلسلہ بڑھا۔ مسلمانوں میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کا شعور پیدا کرنے کے لیے مختلف علما اور مذہبی رہنماؤں نے اپنی توانائیاں صرف کیں۔ مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے بھی قادیانی فرقے کے بارے میں اپنے قلم کو جنبش دی
آپکا کا یہ معروف قول ہے ” قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں ”
صرف یہیں نہیں "ضرب کلیم” میں مکمل وضاحت کی گئی
قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ مسئلہ ختم نہ ہوا۔ 1953ء میں قادیانی مسئلے پر ایک بڑی تحریک اٹھی مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور مذہبی رہنماؤں نے اپنے اپنے انداز میں اس تحریک میں کردار ادا کیا۔ حالات انتہائی کشیدہ ہوئے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور بالآخر ریاست نے سخت اقدامات کے ذریعے حالات کو قابو میں کیا۔
مگر یہ مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا۔

پھر 1974ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے نے ملک بھر میں شدید احتجاج کو جنم دیا۔ تحریک نے زور پکڑا اور معاملہ بالآخر پاکستان کی قومی اسمبلی کے سامنے پہنچا۔
اسمبلی کے اندر مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے اس مسئلے پر اپنا مقدمہ پیش کیا۔ مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ، پروفیسر عبدالغفور احمد اور دیگر ارکان نے اس پارلیمانی عمل میں کردار ادا کیا، جبکہ اسمبلی کے باہر بھی مختلف مذہبی رہنما اور جماعتیں متحرک تھیں۔
بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم اور متنازع مذہبی و سیاسی باب ہےجس کے اثرات آج تک ملک کے قانونی اور سماجی منظرنامے میں موجود ہیں۔
مگر تاریخ کا ایک اور سبق بھی ہے۔
عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں ہوتی اس کے لیے قرآن و سنت کا علم، سیرتِ رسول ﷺ سے محبت، مضبوط کردار، علمی بصیرت اور دلیل کی ضرورت ہے۔ اختلافِ عقیدہ اپنی جگہ، لیکن کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف تشدد، نفرت یا قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی طور درست راستہ نہیں۔ ریاستی اور آئینی معاملات کا فیصلہ قانون کے دائرے میں ہی ہونا چاہیے۔
یہ یقین ہمارے ایمان کی اساس ہے ہماری شناخت ہے اور ہر کلمہ گو مسلمان کے لیے وہ سرخ لکیر ہے جس کی حرمت دل کی گہرائیوں میں تاقیامت جاری رہے گی۔

More posts