باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لداخ مدعے کو لے کر چین اور بھارت کے مابین کشیدگی جاری ہے، لداخ میں بھارتی علاقے پر چینی قبضے اورچینی فوجوں کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کے قتل کے بعد مودی سرکار نے بھارت میں چینی ایپس پر پابندی لگائی ، چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی اور چینی شہریوں کے خلاف کاروائی بھی شروع کر رکھی ہے
اب بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے ایک ایسے چینی باشندے کو گرفتار کیا ہے جو چین کا جاسوس ہو سکتا ہے، بھارت میں محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے چینی شہریوں اور ان کی کمپنیوں پرچھاپے مارے جارہے ہیں۔ ایسے چینی شہریوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے جو منی لانڈرنگ اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
لوسنگ نامی چینی شہری کی مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے جس سے متعلق شبہ ہے کہ وہ جاسوس ہوگا۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لوسنگ سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ 2018 میں سنٹرل انٹلیجنس ایجنسیز اور دہلی پولیس اسپیشل سیل کی مشترکہ ٹیم نے دھوکہ دہی کے الزام میں لوسنگ کو گرفتار کیا تھا۔
لوسنگ تبت کے صوبہ لہاسہ کے چنگوان کے رہنے والے تھنگا کا بیٹا ہے جس نے بھارتی شناخت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے،اس نے دہلی کے علاقہ میں کام کرنے والی مختلف چینی کمپنیوں کے فینانس کے کاموں کو اپنے کنٹرول میں لیا ہوا ہے،
بھارتی حکام کے مطابق چینی شہری اور ان کے بھارتی ساتھی منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا ہے کہ محکمہ کی جانب سے چینی کمپنیوں پر چھاپے مارے گئے اور ان کی تلاشی لی گئی۔ گرفتاری کے بعد ایجنسیوں نے دو نقلی کارڈس، 2 نقلی ہندوستانی پاسپورٹس ضبط کرلئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق لوسنگ چارلی پینگ کے نام سے کام کررہا تھا اور گروگرام ہریانہ میں مقیم تھا۔ 2014 میں وہ غیر قانونی طور پر نیپال سے ہندوستان میں داخل ہوا اور شمال مشرقی ہندوستان کی ایک خاتون سے اس نے شادی کی۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ وہ تربیت یافتہ جاسوس ہے جس نے تحقیقات کرنے والوں کو الجھن میں ڈال دیا۔ تحقیقاتی اداروں کے سامنے اس نے دعویٰ کیا کہ وہ بھارت میں پناہ حاصل کرنے کیلئے غیر قانونی طور پر داخل ہوا تھا کیونکہ چینی حکام کی جانب سے تبتیوں کو ستایا جارہا تھا۔بعد میں اس نے بتایا کہ اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور وہ برسوں تک جیل میں رہا ہے جہاں چینی حکام نے اسے جاسوس بننے کیلئے مجبور کیا۔
بھارتی حکام کے مطابق اپنے چینی پس منظر سے متعلق اس نے بارہا اپنی کہانی کو تبدیل کیا اور تحقیقاتی عہدیداروں کومشکل میں ڈال دیا، ایک موقع پر تو اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ پی ایل اے کا فوجی ہے۔
بھارتی حکام کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لوسنگ یا چارلی پینگ ایک تربیت یافتہ جاسوس ہے۔ چین کی جانب سے یہ تربیت دی گئی ہے کہ کس طرح ظاہری طور پر کمپنیوں کو چلایا جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایسی چینی کمپنیوں کے مالی اُمور کی معاملت کررہا تھا جو ای کامرس سائیٹس پر اپنی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔
بھارتی حکام کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کو دو ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ ایک ذمہ داری یہ تھی کہ کسی طرح دلائی لامہ کے قریبی حلقہ میں داخل ہونے کی کوشش کرے جس کے لئے اس نے ہماچل پردیش کا کئی مرتبہ دورہ کیا۔دوسری ذمہ داری اس نے یہ بتائی کہ چینی سفارتخانہ کے عہدیداروں کیلئے بھی اس نے کام کیا جن میں رقم کی منتقلی، کاروں کی فراہمی اور ان کے سفری انتظامات شامل تھے۔
چین اور بھارت کے مابین بھی لداخ کے حوالہ سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، چین نے بھارتی کرنل سمیت 20 فوجیوں کو مار دیا تھا، بھارت چین کے معاملے پر خاموش رہا،کبھی دھمکیاں بھی دیتا رہا لیکن چین بھی بھارت کو منہ توڑ جواب دیتا رہا،چین نے گھس کر بھارتی زمین پر لداخ میں قبضہ کیا جس کو تاحال بھارت چھڑا نہیں سکا،
لداخ میں انڈیا اور چین میں سرحدی کشیدگی، سینئر صحافی مبشر لقمان نے کیا دی تجویز
یہ وہ لات ہے جو ایک چینی فوجی نے لداخ میں ایک بھارتی فوجی کو تحفہ میں دی
لداخ میں چین کے ہاتھوں شرمناک شکست پر جنرل بخشی نے ایک سائیڈ کی مونچھیں کٹوا دیں
"پلیز گو بیک چائنہ” بھارتی فوج کے ترلے، بینر اٹھا لیے
جنگ کی تیاری کرو، چینی صدر کا فوج کو حکم
چائنہ نے لداخ کے قریب اپنے ایئر بیس کو مزید پھیلانا شروع کر دیا،جنگی طیارے بھی پہنچا دیئے
لداخ پر پنگے بازی پر چائنہ نے بھارتی فوج کو رگڑ دیا مگر کشمیر پر ہم احتجاج سے آگے نہ بڑھ سکے
مودی سرکار کے عزائم پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ بن چکے،وزیراعظم عمران خان
لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان
لداخ سے ذرائع کے مطابق گھس کر مارنے کی بھڑکیں مارنے والے بھارت کی آج کل بولتی بند ہے، اس کی وجہ سکم اور لداخ کی سرحد پر چینی فوج کی وہ نقل وحرکت ہے جس سے بھارتی فوج اور مودی سرکار کے ہوش اڑ گئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف 255 کلومیٹر دور ہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحد پر چینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
بھارت پر ممکنہ حملے کی تیاری،چین نے بھارتی سرحد پر جنگی طیاروں کی تعداد دگنی کر دی
