انسان نے صدیوں کی محنت سے پہاڑ کاٹ دیے، سمندروں پر پل بنا دیے، چاند تک رسائی حاصل کر لی اور مشینوں کو سوچنا سکھا دیا۔ ترقی کی ہر منزل اس کے قدموں میں ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ اتنی بلندیوں کے باوجود "انسان بننے” کا سفر ابھی تک نامکمل ہے۔ ہم نے فطرت کو مسخر کر لیا مگر اپنے نفس کو نہیں، ہم نے آسمانوں کی وسعتوں کو ناپ لیا مگر اپنے دل کی تنگی کو کم نہ کر سکے اور شاید اسی تضاد کا نتیجہ ہے کہ آج کا سب سے بھیانک منظر یہ ہے کہ انسان نے دوسرے انسان پر "خدا” بننے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
یہ خدائی کسی تخت پر بیٹھ کر اعلان کرنے کا نام نہیں۔ یہ ایک خاموش رویہ ہے، ایک زہر ہے جو آہستہ آہستہ رشتوں، اداروں اور سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ایک شخص اپنے عہدے، دولت، علم یا طاقت کو دوسرے کی عزت اور حقوق سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ جب اسے لگتا ہے کہ "میں جو کہوں وہی قانون ہے۔”
تصور کیجیے؛
سرکاری دفتر کی گرمی میں ایک ستر سالہ بوڑھی عورت پینشن کی فائل ہاتھ میں دبائے کھڑی ہے۔ اس کے پاؤں کانپ رہے ہیں۔ اہلکار کرسی پر ٹیک لگا کر بے نیازی سے کہتا ہے "بی بی کل آنا”۔ اس ایک جملے میں اس عورت کی ایک ماہ کی روٹی، دوائی اور عزت سب معطل ہو جاتی ہے۔ اہلکار کے لیے یہ معمول ہے مگر عورت کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے۔ خدائی ہر جگہ موجود ہے۔
یہ خدائی صرف دفتر تک محدود نہیں، یہ ہمارے گھروں میں پلتی ہے۔ ایک باپ جب طیش میں بیٹے سے کہتا ہے "میری مرضی کے بغیر تم سانس بھی نہیں لے سکتے” تو وہ باپ نہیں رہتا، وہ آمر بن جاتا ہے۔
شوہر جب بیوی کی رائے کو "عورتوں کو کیا پتہ” کہہ کر اڑا دیتا ہے تو وہ شریکِ حیات نہیں رہتا، وہ قاضی کے منصب پر براجمان ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیے، رشتے ہمیں دوسروں پر حکومت کرنے کے لیے نہیں ملے۔ یہ ہمیں دوسروں کی زمہ داری اٹھانے کے لیے ملے ہیں۔ اختیار امانت ہے، کھلونا نہیں!
مسئلہ یہ نہیں کہ کسی کے پاس اختیار ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اختیار کے ساتھ رحم کتنا ہے؟
وہ افسر سب سے بڑا ہے جو فائل پر دستخط کرتے وقت سوچے کہ "اس دستخط سے کسی کا چولہا جلے گا”۔
وہ استاد سب سے بڑا ہے جو غریب بچے کی پھٹی کتاب دیکھ کر اسے نئی کتاب دے دے۔
وہ دکاندار سب سے بڑا ہے جو مزدور کی دیہاڑی ایک دن بھی لیٹ نہ کرے۔
وہ والد سب سے بڑا ہے جو بچے کی "فضول” بات بھی توجہ اور اطمینان سے سنے۔
یہی چھوٹے چھوٹے فیصلے قوموں کا مزاج بناتے ہیں۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا کہ یہ کرسی، یہ دولت، یہ جوانی، یہ شہرت کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔
آج آپ کسی کے سامنے اپنی طاقت کا ڈنکا بجا رہے ہیں، کل آپ خود کسی کے محتاج ہو سکتے ہیں۔
زندگی بہت تیزی سے پلٹا کھاتی ہے۔ آج جو دستخط کر رہا ہے، کل وہ خود دستخط کے لیے ترلے کر رہا ہوگا۔ اس لیے کسی کی مجبوری کو اپنی طاقت کی سیڑھی نہ بنائیں۔
کسی کی خاموشی کو اپنی جیت کا میڈل نہ پہنیں اور کسی کو اس لیے حقیر نہ سمجھیں کہ آج وہ آپ سے کمزور ہے۔
بڑا انسان وہ نہیں جو دوسروں کو جھکا کر اپنی اونچائی ثابت کرے بلکہ بڑا انسان وہ ہے جس کے ہاتھ میں کسی کو توڑنے کی پوری طاقت ہو مگر وہ اسے جوڑنے کا انتخاب کرے۔ یاد رکھیں! ایک دن ہم سب کو مٹی میں جانا ہے۔ وہاں نہ تو وی آئی پی پروٹوکول ہوگا، نہ بینک بیلنس، نہ ہی کوئی منصب۔ وہاں صرف ایک چیز جائے گی۔ ہمارا کردار اور وہ لوگ جن کے ساتھ ہم نے حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا۔
اس لیے خدا بننے کی دوڑ چھوڑ دیجیے۔
دنیا کو انسانی خدا نہیں چاہیے۔ دنیا کو ایسے انسان چاہیے جو دوسروں کے لیے آسانی، سہارا اور رحمت بن جائیں۔
بےشک انسانیت ہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
