Baaghi TV

اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا،ترجمان دفتر خارجہ

Foreign Office

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا، خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے سفارتکاری اور مذاکرات کو ہی مسائل کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا ہے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور کیا گیا انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کے باعث نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ان مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے آنے والے وفود کو ممکنہ امریکا اور ایران مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا، جن کے انعقاد کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے اس اقدام کو شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کو کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرے کو روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں اس موقع پر بات چیت اور سفارتکاری کو ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ قرار دیا گیا، تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا اس کے علاوہ چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا، یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گہرے مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے طبی مشورے کے باوجود اس دورے میں شرکت کی، جو پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس دورے کے دوران افغانستان سمیت دیگر علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئے ایک اہم پیشرفت کے طور پر چین اور پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔

پاکستان اور چین کے مشترکہ 5 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں 5 نکاتی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، عملے اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے اور اس اہم سمندری راستے کو جلد از جلد معمول کے مطابق کھولا جائے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے 27 مارچ کو کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے حملوں کی شدید مذمت کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا کویتی قیادت نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔

اگلے روز وزیراعظم نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں انہیں پاکستان کے امن اقدام کی حمایت سے آگاہ کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر متحرک ہے اور خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اہم عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے-

پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا، جس میں عالمی امن و سلامتی پر جاری کشیدگی کے اثرات پر بات چیت ہوئی ،اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کا کردار نہایت اہم ہے اور پاکستان پائیدار امن کے لیے سفارتکا ری اور مذاکرات کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

یران نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو بحر ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے پاکستان نے خوش آئند اقدام اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے 2 جہاز روزانہ بحر ہرمز سے گزر سکیں گے، جو خطے میں اعتماد کی فضا قائم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے حوصلہ افزا اقدام ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں بات چیت اور سفارتی اقدامات کے ذریعے استحکام لانے کی کوششوں میں ایک مثبت سنگ میل ہے۔

منگل کو پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اسرائیل کی جانب سے یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت میں رکاوٹیں ڈالنے کو سختی سے مسترد کیا گیا وزرائے خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یروشلم کے مقدس مقامات کے قانونی اور تاریخی درجہ کو تبدیل نہ کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔

ترجمان نے کہا کہ تمام ممالک نے عالمی برادری سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل کے جاری قوانین اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے تاکہ یروشلم کے مقدس مقامات کی حرمت بحال رہے اور مذہبی رسائی میں رکاوٹیں ختم ہوں یہ اقدامات خطے میں امن، قانونی حیثیت کی حفاظت اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیے گئے ہیں۔

More posts