اسلام آباد: پاکستان میں ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا معاملہ ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے، اور اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے ٹینڈر کی تاریخ میں پانچویں بار توسیع کردی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ٹینڈر کی تاریخ میں 7 اکتوبر تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لئے ٹینڈر کی تاریخ میں مسلسل پانچویں بار توسیع کی گئی ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع وزارت ہوابازی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ میں عدم دلچسپی کی ایک اہم وجہ موجودہ حالات اور اقتصادی مشکلات ہیں، جن کی وجہ سے بین الاقوامی کمپنیوں نے ٹینڈر میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بہتر شرائط پیش کرنے کے باوجود، بین الاقوامی کمپنیوں کی محدود دلچسپی اس معاملے میں مزید تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے اسلام آباد ایئرپورٹ کے بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کب اور کیسے کی جائے گی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ٹینڈر کی تاریخ میں توسیع سے مزید کمپنیوں کو اس منصوبے میں حصہ لینے کا موقع ملے گا اور مسابقتی ماحول پیدا ہوگا جس سے حکومت کے لیے بہتر شرائط پر معاہدے طے کرنے میں آسانی ہوگی۔حکومت پاکستان اس وقت بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے اور ایئرپورٹ سروسز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے منصوبے کا مقصد نہ صرف ایئرپورٹس کی کارکردگی میں بہتری لانا ہے بلکہ سیاحتی شعبے کو بھی فروغ دینا ہے۔موجودہ صورتحال میں اسلام آباد ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ، حکومت کے لیے یہ چیلنج ہوگا کہ وہ کس طرح سے بین الاقوامی کمپنیوں کو اس منصوبے میں حصہ لینے کے لیے قائل کرتی ہے تاکہ منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ آؤٹ سورسنگ: ٹینڈر کی تاریخ میں پانچویں بار توسیع
