Baaghi TV

اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت :تجزیہ شہزاد قریشی

اسلام آباد کا دلخراش واقعہ، عالمی ردِعمل اور قومی یکجہتی کی ضرورت

اسلام آباد میں پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک صدمہ ہے امریکہ، یورپ، روس، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے مذمتی بیانات اور افسوس کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی خطرہ ہے۔ یہ واقعہ ہر ذی شعور انسان کے لیے قابلِ مذمت ہے اور اس پر کسی دو رائے کی گنجائش نہیں۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دنیا بھر کے ممالک اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے، وہیں ہمارے اپنے سوشل میڈیا پر موجود نام نہاد دانشوروں نے بغیر تحقیق اور ذمہ داری کے اس واقعے کو ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کا ذریعہ بنا لیا۔ یہ طرزِ عمل نہ تو جمہوری اقدار کے مطابق ہے اور نہ ہی حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔

پاکستان کی قربانیاں: ایک نظر ماضی پر

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہزارو ں سویلین، فوجی، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئےآپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردّالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، قومی سلامتی کے اداروں اور دیگر ریاستی اداروں نے مل کر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ڈھانچے کو بڑی حد تک توڑا۔ یہ کامیابیاں آسان نہیں تھیں بلکہ ان کے پیچھے بے مثال قربانیاں شامل ہیں۔

ایسے میں ریاستی اداروں پر اندھا دھند تنقید کرنا، بغیر شواہد کے الزامات لگانا، درحقیقت دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر بات پر خاموشی اختیار کی جائے، لیکن یہ ضرور ہے کہ تنقید ذمہ دارانہ، باخبر اور تعمیری ہو۔

علاقائی عدم استحکام اور بیرونی عوامل

ریاستِ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی ناقابلِ تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے، جن کا مقصد پاکستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔

یہاں عالمی برادری، خصوصاً وہ ممالک جو بھارت اور افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں—جیسے متحدہ عرب امارات، قطر، دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، چین اور دیگر عالمی طاقتیں—ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان ریاستوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔

قومی اتحاد: وقت کی اہم ترین ضرورت

سوال یہ نہیں کہ ایک واقعہ کیوں پیش آیا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بطور قوم اس کا سامنا کیسے کرتے ہیں۔ کیا ہم انتشار، الزام تراشی اور اداروں کی تضحیک کا راستہ اپنائیں گے؟ یا قومی یکجہتی، صبر اور اجتماعی شعور کے ساتھ دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے؟پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے دفاعی اور سلامتی کے اداروں کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اختلافِ رائے کو دشمن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہ بننے دیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اور اس جنگ میں سب سے مضبوط ہتھیار قوم اور ریاست کے درمیان اعتماد ہے۔

اسلام آباد کا واقعہ ایک قومی سانحہ ہے، مگر اسے قومی کمزوری میں بدلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم جذباتیت، افواہوں اور پروپیگنڈا کے بجائے ہوش، اتحاد اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں—کیونکہ مضبوط قومیں حادثات سے نہیں، انتشار سے ٹوٹتی ہیں۔

More posts