Baaghi TV

بھارتی کامیڈین اداکار جاوید جعفری ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئے

بالی ووڈ کامیڈین اداکار جاوید جعفری کو متنازع شہریت قانون کے خلاف بولنے پر ایک مرتبہ پھر تنقید کی زد میں آگئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کامیڈین اداکار جاوید جعفری نے ٹوئٹر پر بھارت کے متنازع شہریت قانون کے خلاف یورپ میں جاری احتجاج کے حوالے سے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا تھا کہ سی اے اے کے خلاف قرارداد یورپ منتقل ہوگئی ہے

جاوید جعفری کے اس ٹوئٹ کے بعد ایک بھارتی ٹوئٹر صارف روہنی نے اداکار کو یورپ منتقل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ آپ یورپ کیوں نہیں منتقل ہوجاتے؟ ہمیں اپنی قوم میں غداروں کی ضرورت نہیں ہے

بھارتی صارف کے اس تنقید بھرے ٹوئٹ پر جاوید جعفری بھی خاموش نہ رہے اور مذاق اڑاتے ہوئے انہو ں نے خاتون کو جوابی ٹوئٹ میں لکھا کہ آپ کی قوم؟ میم آپ نے کب خریدی؟ اداکار نے طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’جب میں نے پچھلی بار بھارت کا آئین پڑھا تھا تو اس میں جمہوریت، مساوات اور اختلاف رائے کے حق کی بات کی گئی تھی میں نہیں جانتا تھا کہ آپ نے ذاتی طور پر آئین میں تبدیلیاں کی ہیں مہربانی کرکے اپنی تبدیلیاں اپ ڈیٹ کردیں

جاوید جعفری کی اس تنقید پر بھارت کے سابق پارلیمنٹ ممبر اور بی جے پی رہنما نریندر سوائیکر نے جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ تالیاں مسٹر جاوید اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ امید ہے کہ آپ اس بات سے واقف ہوں گے کہ بھارت ایک آزاد اور خود مختار جمہوریہ ہے بھارتی وہ کریں گے جو ان کے لیے اور قوم کے مفاد کے لیے بہتر ہوگا

بی جے پی رہنما کے اس ٹوئٹ پر جاوید جعفری نے جواب دیتے ہوئے لکھاکہ سر اگر بھارت کو بین الاقوامی خیالات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے تو کیوں آپ لوگ ان کو بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ میں اس بات سے بہت اچھی طرح واقف ہوں کہ بھارت کیا ہے اور این آر سی کے ساتھ مل کر آپ لوگ سی اے اے کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں

جاوید جعفری کے اس ٹوئٹ پر بی جے پی رہنما نے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ سی اے اے پاس ہوچکا ہے این آر سی نہیں تو پھر کیوں این آر سی پر بات کریں آئین سازی کا معاملہ سپریم کورٹ کے پاس ہے آئیے نتائج کا انتظار کریں کیوں پہلے سے نتائج دے رہے ہیں


واضح رہے کہ جاوید جعفری بھارت میں جاری متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آتے ہیں اور ان کا نام سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مشہور شخصیات کے لکھے ہوئے خط پر متعدد دستخط کرنے والوں میں بھی شامل ہے

بالی وڈ خانز کے سروں پر بھی سی اے اے قانون کا خطرہ منڈلانے لگا

More posts