کچھ منظر بس دیکھے نہیں جاتے، وہ دل میں اتر جاتے ہیں۔ چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی۔ بتایا جا رہا تھا کہ راولپنڈی مال روڈ پر ایک وکیل نے ایک موٹر سائیکل سوار کو تھپڑ مارا، جبکہ قریب موجود ایک ٹریفک پولیس اہلکار یہ سب دیکھتا رہا۔ ویڈیو چند لمحوں کی تھی، مگر جانے کیوں وہ منظر میرے ذہن میں وہیں رک گیا۔ شاید اس لیے کہ اس میں صرف ایک شخص کو تھپڑ نہیں مارا جا رہا تھا، وہاں کسی کی عزت، کسی کا اعتماد اور شاید کسی کا قانون پر یقین بھی تھپڑ کھا رہا تھا۔
اور اس پورے منظر میں جو چیز میرے دل میں سب سے زیادہ ٹھہر گئی، وہ اُس موٹر سائیکل والے کی آنکھیں تھیں۔ جس انداز سے وہ ٹریفک پولیس والے کی طرف دیکھ رہا تھا، میں اُس نظر کو شاید کبھی بھول نہ سکوں۔ اُس کی آنکھوں میں جیسے ایک سوال تھا۔۔۔ ایسا سوال جو زبان پر نہیں آیا، مگر صاف سنائی دے رہا تھا۔ جیسے وہ پوچھ رہا ہو، "آپ تو یہاں موجود ہیں، پھر میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے؟” اُس کی نظروں میں غصہ بھی تھا، حیرت بھی، مگر ان سب سے زیادہ ایک ایسی مایوسی تھی جسے شاید بہت سے لوگوں نے دیکھا ہی نہ ہو۔ لیکن میں نے دیکھی۔ وہ بار بار پولیس والے کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے آخری امید بھی وہیں کھڑی ہو۔ جیسے اسے یقین ہو کہ شاید ابھی کوئی آگے بڑھے گا، شاید کوئی اسے اس بے عزتی سے نکال لے گا۔۔۔ مگر جب سامنے صرف خاموشی ہو تو انسان کی آنکھوں میں امید بھی آہستہ آہستہ بجھنے لگتی ہے۔
شاید اُس وقت وہ صرف ایک تھپڑ سے نہیں ٹوٹا ہوگا۔ شاید اسے اس بات نے زیادہ توڑا ہوگا کہ جس شخص سے اسے تحفظ کی امید تھی، وہ بھی خاموش کھڑا تھا۔ مجھے اُس کی آنکھوں میں یہی سوال نظر آیا۔۔۔ "اگر آپ بھی میرے لیے نہیں کھڑے ہوں گے، تو پھر میں کس کے پاس جاؤں؟” شاید یہ سوال اُس نے کبھی زبان سے نہ کہا ہو، مگر بعض سوال کہنے کے لیے لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ کچھ سوال آنکھوں میں آتے ہیں اور سیدھے دوسرے انسان کے ضمیر تک پہنچتے ہیں۔
ہم اکثر ظلم کو صرف اُس ہاتھ میں دیکھتے ہیں جو کسی پر اٹھتا ہے، مگر کبھی کبھی ظلم اُس خاموشی میں بھی چھپا ہوتا ہے جو اُس ہاتھ کو اٹھتے ہوئے دیکھتی ہے اور پھر بھی کچھ نہیں کہتی۔ شاید خاموش رہنے والا خود کسی کو نہیں مارتا، لیکن جب ایک کمزور شخص اپنے سامنے ہونے والی زیادتی کے خلاف اکیلا کھڑا ہو اور اردگرد موجود لوگ خاموش رہیں، تو اُس کی بے بسی اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ کیونکہ پھر اسے صرف ایک شخص سے نہیں، پورے ماحول سے شکست محسوس ہونے لگتی ہے۔
ہم نے شاید طاقت کا مطلب ہی غلط سمجھ لیا ہے۔ طاقت اس بات کا نام نہیں کہ آپ کسی کمزور کو دبا سکیں۔ اصل طاقت تو اُس وقت سامنے آتی ہے جب آپ کے پاس اختیار ہو، مگر آپ اُس اختیار کو کسی کی عزت پامال کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔ وکیل ہونا قابلِ احترام پیشہ ہے، مگر قانون جاننے کا مطلب قانون سے اوپر ہونا نہیں۔ اسی طرح پولیس کی وردی صرف اختیار نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔ اُس وردی کی اصل عزت شاید اسی میں ہے کہ جب ایک بے اختیار انسان مشکل میں ہو تو اسے یہ محسوس نہ ہونے دیا جائے کہ وہ اکیلا ہے۔
اور یہاں سے بات صرف اُس وکیل یا اُس پولیس اہلکار تک محدود نہیں رہتی۔ یہ سوال ہم سب کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھیں اور خاموشی سے گزر جائیں، اگر ہم یہ سوچ کر نظریں پھیر لیں کہ "یہ میرا مسئلہ نہیں” تو کیا واقعی ہم اس سب سے بالکل الگ ہیں؟ شاید نہیں۔ کیونکہ معاشرے صرف ظالم لوگوں سے خراب نہیں ہوتے، کبھی کبھی اچھے لوگوں کی خاموشی بھی ظلم کو جگہ دیتی ہے۔
مجھے لگتا ہے ہم آہستہ آہستہ ظلم کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی واقعہ ہوتا ہے، ویڈیو بنتی ہے، لوگ غصہ کرتے ہیں، چند دن بات ہوتی ہے اور پھر ہم اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ شاید ہمیں اب ظلم سے زیادہ اُس بے حسی سے
