Baaghi TV

جمعہ کا دن اور عید دونوں کی حقیقت،تحریر:تابندہ طارق عکس

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں اعتدال سے حکمت سے اور آسانیوں کا درس دیتا ہے لیکن اس کے باوجود کئی تہواروں پر یا پھر کئی دنوں کے حوالے سے بہت سی ایسی باتیں گردش کرتی ہیں جن کا کوئی مستند حوالہ نہیں ملتا ہے نہ ہی قرآن و حدیث میں اور نہ ہی حضور نبی کریم ﷺ اور اصحابہ اکرام کی حیات مبارکہ کے مطابق کہی پر کوئی تفصیل بیان کی گئی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں سنی سنائی باتوں کو اتنی بار دہرایا جاتا ہے کے لوگ آنکھیں موند کر اس پر سر تسلیم خم کر کے بھروسہ کر لیتے ہیں اور اس کے برعکس حقیقت کیا ہوتی ہے اسے جانچنے کی کوشش تک نہیں کرتے ہیں۔یہ باتیں اتنی سفاک گوئی سے پیش کی جاتی ہیں کے انسانی دلوں و دماغ میں پختگی اختیار کر کے اپنی آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور وہ بھی ان من گھڑت باتوں پر اپنے یقین کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔ان سب باتوں میں سے ہی ایک من گھڑت بات جمعہ کا دن اور عید کے حوالے سے بھی پختگی سے سننے میں آتی ہے۔جمعہ کے دن کو مسلمانوں کے لیے عید کا دن قرار دیا گیا ہے کیوں کہ تمام اہل ایمان اس دن عید کی طرح لباس،خوشبو اور وقت مقرر پر مسجد کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کے اس دن کو عید کے دن سے مشابہت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود اہل اسلام نے غیر مسلموں کی باتوں کو حقیقت کا روپ دے کر ماننا شروع کر دیا ہے۔اگر جمعہ کے دن عید کا تہوار آ جائے تو یہ ملک کے حکمران کے حق میں نحوست کی علامت ہوتا ہے اور ایک ہی دن میں دو خطبات کا ہونا مناسب نہیں ہے۔اب سوال یہ ہے کیا واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے یا پھر یہ صرف من گھڑت کہانیاں ہیں؟

اگر اسلامی تعلیمات کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کے عید اور جمعہ کا ایک ہی دن آنا کوئی غیر معمولی یا تشویش ناک بات نہیں ہے۔بل کہ یہ ایک فطری امر ہے جو قمری کلینڈر کی گردش کے باعث کبھی کبھار رونما ہو جاتا ہے۔تاریخ اسلام کے اگر پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن ایک ساتھ رونما ہوئے ہیں اور اس میں کسی قسم کی نحوست کی پیش گوئی یا خطرے کا تصور بیان نہیں کیا گیا ہے۔احادیث مبارکہ میں اس حوالے سے واضح رہنمائی ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب عید اور جمعہ ایک ہی دن وقوع پذیر ہوتے تھے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو سہولت فراہم کرتے ہوئے فرمایا کہ:”جو شخص عید کی نماز ادا کر لے وہ چاہے تو جمعہ کی نماز میں شرکت نہ کرے البتہ امام پر لازم ہے کے وہ جمعہ کا خطبہ اور نماز ادا کرے تاکہ جو لوگ شرکت کرنا چاہیں ان کے لیے ادا کرنے کا موقع مل سکے۔اس بات سے اندازہ ہوتا ہے اسلام میں مسلمانوں کے لیے کتنی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کے "دو خطبات” کا مسئلہ دراصل ایک غلط فہمی ہے۔عید اور جمعہ دونوں کی اسلام میں الگ الگ اہمیت کے حامل ہیں عید کا خطبہ ایک خوشی اور اپنے رب کے حضور شکر گزاری کا اظہار ہوتا ہے اور جمعہ کا خطبہ ہفتہ وار تربیت اور نصیحت کا ذریعہ ہوتا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کے یہ غیر مستند روایات کا نتیجہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ عوام میں پھیل گئی ہیں۔اسلام ہمیں ایسی افواہوں سے دور رہنے اور ہر بات کو دلیل اور تحقیق کی روشنی میں پرکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن پاک سے بہترین کوئی اور مستند کتاب نہیں ہے جو اہل ایمان کو سچ اور جھوٹ کا فرق سمجھا سکے۔سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے سے بہتر ہے قرآن پاک کو مع ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور روزانہ ایک آیت سمجھ کر پڑھنے سے اپنے علم و عمل میں اضافہ فرمائے اللّٰہ پاک ہمیں صحیح بات سننے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین۔

More posts