اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے خلع کے بعد جہیز کے تنازع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اسے بیوی سے سلامی نہیں لینی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے معاشرتی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص ذہنیت بن چکی ہے جس کے مطابق بیوی پر ہاتھ اٹھانے کو ہی تشدد سمجھا جاتا ہے، جبکہ ذہنی تشدد کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ذہنی اذیت سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ عورتیں تعلق کو بچانے کے لیے جتنا سمجھوتہ کرتی ہیں، مرد اس کے مقابلے میں ایک فیصد بھی نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر علیحدگی ہو چکی ہے تو عورت کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ شادی کے موقع پر دی جانے والی سلامی ہمیشہ بیوی کی ملکیت ہوتی ہے، اور اگر شوہر ایک خوشگوار ازدواجی زندگی چاہتا ہے تو اسے بیوی سے سلامی لینے سے گریز کرنا چاہیے۔
خلع کے بعد جہیز تنازع: جسٹس محسن اختر کیانی کے خواتین کے حقوق پر اہم ریمارکس
