آج کے دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے اور ٹیکنالوجی ہر لمحہ ہمیں دوسروں کی زندگیوں سے جوڑے ہے، وہاں کام کا ایک بنیادی اصول تیزی سے نظرانداز ہو رہا ہے۔
اپنے کام سے کام رکھنا۔ بظاہر یہ جملہ سادہ لگتا ہے، مگر اس کے اندر زندگی کو پرسکون اور متوازن بنانے کا ایک مکمل فلسفہ چھپا ہوا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ اپنی توانائی دوسروں کے معاملات میں مداخلت کر کے ضائع کرتے ہیں۔ کئی بار یہ مداخلت محض دوسروں کی زندگی پر نظر رکھنے تک محدود نہیں رہتی۔ (حالانکہ یہ بھی غلط) بلکہ ہم ان کے کاموں میں دخل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کی اس دخل اندازی کو اپنے حق میں استعمال کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دفاتر میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ساتھی اپنا کام ٹال دیتا ہے اور دوسرے ساتھی کو یہ محسوس کراتا ہے کہ یہ کام صرف آپ ہی کر سکتے ہیں۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب کوئی ہمیں اہمیت دکھاتا ہے۔ہمارا دماغ سکون محسوس کرتا ہے جسے ڈوپامین کہتے ہیں ڈوپامین ریلیز ہونے کے بعد ہمارا جو ایکشن ہوتا ہے، وہ اکثر سیروٹونن ریلیٹڈ انرجی ری ایکشن میں بدل جاتا ہے۔ یعنی وقتی خوشی کے بعد دماغ میں ایک لمبی دورانیے کی توانائی یا سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے
تو ہم خوشی محسوس کرتے ہیں، اور اپنا کام چھوڑ کر یا اوور برڈنائز ہوکر دوسرے کا کام گلے ڈال لیتے ہیں۔ کئی لوگوں کو یہ روحانی سکون بھی لگتا ہوگا کیونکہ دوسروں کے کام آنا بھی عبادت ہے۔*( وہ عبادت اور کام مجبور و لاچار کے لیے ہیں) ، ہم اپنا اصل کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں کود پڑتے ہیں ۔یہ بنیادی مسئلہ ہے۔ جو ہمیں سمجھنا پڑے گا۔ ہر شخص ہر کام نہیں کر سکتا۔ اور اگر وہ کر سکتا ہے تو نہیں کرنا چاہیے۔
یہاں ایک اور اہم نقطہ یہ ہے کہ جب آپ کہتے ہیں "یہ کام میں کر دوں گا” صرف اس لیے کہ یہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں، تو آپ اپنے کسی شخص کے ہاتھوں استعمال ہونے جا رہے ہوتے ہیں اور اسے آپ اسے مستقل عادی بنا رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے کام نہ کرے ۔ آپ خود یہ راستہ کھول دیتے ہیں کہ یہ کام مستقبل میں آپ کی ذمہ داری بن جائے۔ چھوٹا سا تعاون وقتی سکون تو دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہ آپ کے لیے اضافی دباؤ، توجہ کی تقسیم، اور وقت کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ جو کام کبھی آپ نے کسی کو امپریس کرنے یا مروت میں دوسرے کا کیا تھا ایک وقت آتا ہے کہ اسی کام کو درست نہ کرنےپر آپ باقاعدہ قصور وار ٹھہرائے جاتے ہیں وہ شخص آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ کام کرانااس کا حق ہے اور ہمیشہ آپ سے کرایا جا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں مداخلت کر دیں، چاہے وہ تھوڑے بہت رد و بدل یا بہتری کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، ہم اسے مکمل کر دیتے ہیں اور نتیجتاً دوسروں کے کام کو آسان بناتے ہیں۔ یہ رویہ وقتی آسانی تو فراہم کرتا ہے، لیکن آپ کو اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔دوسرا جاری کام کو اچکنا اور جلدی سے مکمل کر لینا آپ کی محنت کرنے اور فوکس کی صلاحیت ختم کر دیتا ہے ۔
معاشرتی طور پر ایک اور رجحان بڑھ رہا ہے: ہم فوراً مشورہ دینے لگتے ہیں اور ہر کام میں مداخلت کرتے ہیں، چاہے ہمیں اس کی بیسکس بھی نہ معلوم ہوں۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی گاڑی خراب ہے اور آپ کو خرابی نہیں پتا پھر بھی اسے دیکھنا یا اندازے لگانا وہ عادت ہے جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ، مہذب معاشروں میں ایک اصول ہے جب تک آپ سے پوچھا نہ جائے، آپ نے نہیں بولنا ۔یہاں ہم پورے مکینک بن بیٹھتے ہیں۔ اگر آپ کو خرابی کا علم ہے تو کیونکہ آپ کا بنیادی کام گاڑی ٹھیک کرنا نہیں ہے۔لہذا بغیر اوزاروں کے غیر ضروری مداخلت اسی ضمرے میں آئے گی جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ ہاں، اگر ایمرجنسی صورتحال ہو تو ضرور مدد کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت سے یہ چیز عادت بن جاتی ہے ، اور انسان اپنے ذمہ مستقل طور پر غیر ضروری کام لے لیتا ہے۔
اصل افیشینسی یہ نہیں کہ آپ کم وقت میں زیادہ کام کر لیں اور ہر لمحے مصروف دکھائی دیں۔ جو کام آپ کر رہے ہیں اسے یکسوئی سے مکمل کرنا اور باقی وقت کو اپنے آپ کو آرام دینے، اپنی فیملی کو وقت دینے اور اپنی زندگی کو توازن میں رکھنے کے لیے استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ اگر کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ میں کم وقت میں زیادہ کام کر لیتا ہوں تو میں دوسروں سے بہتر ہوں، تو وہ غلط فہمی میں ہیں؛ یہ افیشینسی نہیں بلکہ ایک "اوور افیشینسی” ہے، جو تعریف کی کوٹنگ میں لپیٹ کر ہمیں درست دکھائی جاتی ہے۔
یہی رجحان سوشل میڈیا میں بھی نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہمارے فون میں موجود نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرنا ایک عام عادت ہے۔ بظاہر یہ صرف معلومات حاصل کرنا بے ضرر محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم گھر بیٹھے بیٹھے پچاس یا اس سے زائد لوگوں کے بارے میں ایکٹو معلومات حاصل کر لیتے ہیں: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں، کہاں جا رہے ہیں، اور کیا ہو رہا ہے۔ اس طرح سوشل میڈیا کے سٹیٹس اور اپڈیٹس میں وقت گزارنا بھی غیر ضروری معلومات میں انوال ہونا ہے، جو ہماری توجہ کو منتشر کرتا ہے، ذہنی دباؤ پیدا کرتا ہے اور اصل اہم کاموں میں رکاوٹ بنتا ہے۔
ریسرچ بھی یہی بتاتی ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو (2021) کے مطابق، جو ملازمین اپنی توانائی دوسروں کے کاموں میں ضائع کرتے ہیں، ان کی پروڈکٹیوٹی تقریباً 30٪ کم ہو جاتی ہے۔ ہارورڈ بزنس ریویو کی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ غیر ضروری ملٹی ٹاسکنگ ذہنی دباؤ، تھکن اور کام کی کوالٹی میں کمی لاتی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی ایگزیکٹو پروڈکٹیویٹی اسٹڈی (2020) میں بتایا گیا کہ جو لوگ بار بار دوسروں کے ضروری کام خود سے سنبھالتے ہیں، ان کے اپنے اہم کام مکمل کرنے کی صلاحیت 25٪ کم ہو جاتی ہے۔
ایک دفتر کا واقعہ: احمد ہمیشہ ہر ساتھی کے کام میں مداخلت کرتا، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ "یہ کام میں کر دوں گا، مسئلہ نہیں ہے”۔ چند مہینوں میں اس کی اپنی اہم ذمہ داریوں میں تاخیر ہونے لگی، ذہنی دباؤ بڑھ گیا اور وہ اکثر تھکا ہوا محسوس کرنے لگا۔ اس کے ساتھی نے بھی اس رویے کو معمول سمجھ لیا اور ہمیشہ احمد پر انحصار کرنے لگا، جس سے احمد کا وقت اور توانائی مستقل ضائع ہونے لگی۔جب اس نے اس چیز کا شکوہ کیا تو سب نے اسے ذمہ دار ٹھہرایا۔ کیونکہ تمام اضافی کام اسے نہیں دیے جاتے تھے بلکہ وہ خود لیتا تھا۔
گھر کی مثال: سارہ ہر وقت فون پر نمبرز کے اسٹیٹس چیک کرتی تھی، یہ دیکھتی رہتی تھی کہ دوست یا رشتہ دار کیا کر رہے ہیں۔ دن کے آخر میں اس کے پاس اپنے بچوں یا خود کے لیے صرف چند لمحے رہ جاتے تھے، اور وہ محسوس کرتی تھی کہ اس کا وقت مکمل طور پر منتشر ہو گیا ہے۔
انٹرفیئر کا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جب کوئی کام پہلے سے شروع ہو چکا ہو اور ہم اس میں تھوڑا بہت رد و بدل کر کے اسے مکمل کر دیتے ہیں، تو ہم فوری آسانی حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ ہمیں اپنے اصل کام پر فوکس کرنے سے روک دیتا ہے اور سیکھنے کے مواقع کم کر دیتا ہے۔ نتیجتاً ہم مستقل طور پر دوسروں کے کام کا بوجھ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
مشورے اور غیر ضروری مداخلت: اگر کوئی شخص بغیر پوچھے ہی ہر مسئلے پر مشورہ دے یا ہر کام میں مداخلت کرے، تو وہ خود اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھاتا ہے اور اپنے اصل کام پر فوکس نہیں کر پاتا۔ ایمرجنسی کی صورت میں مدد ضرور کریں، لیکن غیر ضروری مداخلت طویل عرصے میں نقصان دہ ہوتی ہے۔
آج کی تیز رفتار زندگی میں کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو اپنی سمت واضح رکھتے ہیں، اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرتے ہیں اور غیر ضروری مداخلت یا سوشل میڈیا کی جزوی مصروفیات میں الجھے نہیں رہتے۔ ارے "میں کر دوں گا” فوری فیصلے، غیر ضروری مشورے یا سوشل میڈیا انگیجمنٹ وقتی اطمینان تو دیتے ہیں، مگر لانگ رن میں یہ آپ کی صحت، توجہ، اور ذاتی وقت کو متاثر کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر آپ کا پیشہ ایک سرکاری دفتر میں ملازمت ہے جہاں فائل رورک یا دماغی کام آپ کو سونپا جاتا ہے تو چاہے آپ کتنے ہی اچھے ڈرائیو ہوں کبھی دفتر میں اپنی خدمات بطور ڈرائیو پیش نہ کریں۔ آپ کو الیکٹرک فالٹس اور دیگر فنی مہارت ہے تو اپنے کام کے دوران کبھی استعمال نہ کریں کیونکہ تمام اضافی مہارت اور توانائی آپ کے اپنے کام کرنے کے لیے ہے نہ کہ ربورٹ بن کر پبلک سروسز دینے کے لیے۔ اپنے اردگرد دیکھیں تو بے شمار لوگ ایسے ہیں جو صرف وہ کام کرتے ہیں جس کے لیے انہیں مقرر کیا جائے۔ اس دوران بجلی چلی گئی ہے تو وہ سکون سے انتظار کریں گے جبکہ کچھ لوگ فورا لائن مین کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے۔ اب بجلی کی خرابی درست ہو گی جو ورکر خاموش پرسکون تھے وہ فوری کام پر توجہ دیں گے جبکہ اپنے کام سے بجلی کی خرابی دور کرنے والے کئی منٹ مطلوبہ ردھم سے محروم رہیں گے ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر معاملے میں سپاٹ رویہ رکھیں۔ انسانی ہمدردی اور ایمرجنسی حالات میں ضرور اپنی تمام خدمات دیں لیکن عام زندگی کو ایمرجنسی نہ ڈکلئیر کریں۔ اس کا ایک بہت اہم حصہ ہماری زندگی سے جڑا ہے۔ انسان کے جسم میں پوشیدہ توانائی قدرت نے بیماری، بھوک اور دباو سے مقابلے کے لیے رکھی ہے جو کبھی کبھار ہی درکار ہوتے۔ لیکن ملٹی ٹاسکنگ میں جوں ہی دماغ پر دباو بڑھتا وہ جسم کو الرٹ کا میسج بھیج دیتا۔ اور جونہی یہ اوور برڈن روٹین لمبی ہوتی دماغ جسم کی ایمرجنسی توانائیاں طلب کرکے انہیں بھی اوور ورکنگ کے لیے جھونک دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ کام مختلف کام اور افراتفری کا شکار لوگ بیمار جلد ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ان پر اچانک کسی بڑی بیماری کے حملے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
کام سے کام رکھنا اور اپنی توانائی کو یکسوئی سے استعمال کرنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ ایک کامیاب، مؤثر اور پرسکون زندگی کی کنجی بھی ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارے مسائل کم ہوں گے بلکہ ہم اپنے وقت، توانائی اور صحت کو بہتر استعمال کرتے ہوئے ایک مضبوط اور متوازن شخصیت کے حامل بھی بنیں گے۔
مبشر حسن شاہ
