Baaghi TV

خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

وہ دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
ایک ہاتھ میں لرزتی ہوئی دعا
اور دوسرے میں عمر بھر کی تھکن۔
سفید داڑھی میں الجھی ہوئی سسکیاں جھریوں میں قید برسوں کے دکھ اور آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ جیسے دنیا کی روشنی سے نہیں، اپنی قسمت کی سختی سے آنکھیں چرا رہا ہو۔
یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پھیلے تھے مگر آج رب کے حضور خالی تھے۔
اس نے پوری زندگی محنت کی۔
دھوپ میں جلتا رہا سردیوں میں ٹھٹھرتا رہا۔
اولاد کے خوابوں کو اپنے خوابوں پر ترجیح دی۔
ماں باپ کے لیے سہارا بنا بچوں کے لیے سایہ۔
مگر جب وہ خود سہارا مانگنے کے قابل ہوا، تو سب مصروف نکلے۔
آج اس کے پاس نہ شکوہ تھا، نہ شکایت۔
بس ایک سوال تھا جو آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا:
“یا اللہ میں نے کسی کا حق نہیں مارا، پھر یہ تنہائی کیوں؟”
ہوا نے اس کی کانپتی انگلیوں کو چھوا۔
لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
صرف آنکھوں سے وہ آنسو گرے جو لفظوں سے زیادہ سچے تھے۔
شاید یہ دعا کسی اخبار کے صفحے پر خبر نہ بنے
مگر عرش تک ضرور پہنچی ہو گی۔
کیونکہ جب انسان سب دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے،
تب جو آخری دستک ہوتی ہے
وہ سیدھی خدا کے دل پر پڑتی ہے۔
اور خدا
خالی ہاتھوں کو کبھی خالی نہیں لوٹاتا

More posts